روس یوکرین امن منصوبہ آخری مرحلے میں داخل،زیلنسکی آج ٹرمپ سے ملاقات کرینگے

روس یوکرین امن منصوبہ آخری مرحلے میں داخل،زیلنسکی آج ٹرمپ سے ملاقات کرینگے

روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل اور تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ پیش رفت سامنے آ گئی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تیار کیا جانے والا امن منصوبہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں یوکرینی صدر زیلنسکی آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کریں گے، جسے عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

صدر زیلنسکی کے مطابق یہ ملاقات اتوار کے روز امریکی ریاست فلوریڈا میں ہو گی، جہاں دونوں رہنما جنگ کے خاتمے، مستقبل کے سکیورٹی انتظامات اور متنازع علاقوں پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبہ تقریباً 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے  تاہم چند حساس معاملات پر ابھی اتفاق رائے ہونا باقی ہے۔

زیلنسکی نے بتایا کہ امریکا اور یوکرین کے درمیان سکیورٹی گارنٹی سے متعلق ایک علیحدہ معاہدہ بھی تقریباً تیار ہے  جو مستقبل میں یوکرین کے دفاع کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق سب سے بڑا تنازع زمینی حدود اور علاقائی کنٹرول پر ہے خاص طور پر ڈونباس کے علاقے اور زاپوریزیا کے جوہری بجلی گھر کی حیثیت پر سنجیدہ بات چیت متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کی زیلنسکی سے اہم ملاقات،’اب خون خرابہ ختم کرنے کا وقت ہے‘ ، امریکی صدر

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کی حتمی منظوری ان کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہو گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ زیلنسکی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔

تاہم امن کوششوں کے اس نازک مرحلے پر روس نے یوکرین کے خلاف ایک بڑا فضائی حملہ کر کے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ صدر زیلنسکی کے مطابق روسی افواج نے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں پر 40 میزائل اور 500 سے زائد ڈرون داغے، جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیں :صدر ٹرمپ کا یوکرین کوانتخابات کرانےکا مشورہ، امریکا سکیورٹی کی ضمانت دے تو تیار ہیں، زیلنسکی  

کیف کے ایک رہائشی کمپلیکس سے ڈرون ٹکرانے کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آ چکی ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ روسی حملوں کے اثرات یوکرین کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے گئے، جہاں سکیورٹی خدشات کے باعث پولینڈ کے دو ہوائی اڈوں پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔

editor

Related Articles