کسی اور کے نام پر جاری سمز کب بند کی جا رہی ہیں؟ صارفین کے لیے اہم خبر

کسی اور کے نام پر جاری سمز کب بند کی جا رہی ہیں؟ صارفین کے لیے اہم خبر

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کسی اور کے نام پر جاری موبائل فون سمز کے استعمال سے متعلق ایک اہم اعلان جاری کیا ہے، جس میں تمام صارفین کو اپنی سمز اپنے ہی نام پر رجسٹرڈ کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ کسی دوسرے فرد کے نام پر رجسٹرڈ سم کا استعمال قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، اور ایسی صورت میں سم کے غلط استعمال کی مکمل ذمہ داری اس شخص پر عائد ہوگی جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ تمام صارفین اپنی موبائل سمز اور ٹیلی کام کنکشنز کے درست استعمال کے خود ذمہ دار ہوں گے،  کالز، پیغامات اور انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال سے متعلق ضوابط کی پابندی کرنا ہر صارف کے لیے لازمی ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر کاشف غفور نے کہا ہے کہ یہ انتباہ کوئی نیا اقدام نہیں بلکہ صارفین کو وقتاً فوقتاً یاد دہانی کروائی جاتی رہتی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں :وی پی این استعمال کرنے والے افراد کے لئے بڑی خبر،پی ٹی اے نے اہم اعلان کردیا

 ان کے مطابق ٹیلی کام سروس کے معاہدے میں واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ سم اسی شخص کے نام پر جاری کی جائے گی جو اسے استعمال کرے گا۔

ڈائریکٹر پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ قانون کے مطابق ایک فرد اپنے نام پر زیادہ سے زیادہ آٹھ موبائل سمز جاری کروا سکتا ہے،  انہوں نے زور دیا کہ سم کے استعمال کی مکمل ذمہ داری صارف کی ہوتی ہے، اسی لیے صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز ہی استعمال کریں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تاحال کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ سمز کو بند کرنے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم صارفین کو اپنی سمز کی تفصیلات جانچنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق صارفین اپنا شناختی کارڈ نمبر 668 پر ارسال کرکے یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ ان کے نام پر کتنی موبائل سمز رجسٹرڈ ہیں، جس کے جواب میں انہیں میسج کے ذریعے مکمل معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔

پی ٹی اے نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت اپنی سمز کی تصدیق کرائیں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *