تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں اُتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور بین الاقوامی اقتصادی حالات ہیں، جن کا اثر مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں کمی کے بعد لوگ طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سونا خریدنے کے حوالے سے متحرک ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ایک محفوظ اور روایتی سرمایہ کاری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھرمیں سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پرہے جبکہ ایشیا میں یہ اعزاز چین کے پاس ہے، بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اورایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان عالمی فہرست میں 49 ویں نمبر ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا، جرمنی اور اٹلی سونے کے ذخائر کے حوالے سرفہرست ہیں، ایشیاء میں چین اور بھارت سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھتے ہیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں نے 2024ء میں 1,000 میٹرک ٹن سے زائد سونا خریدااور پچھلی دہائی کی اوسط سالانہ خریداری کے تقریباً دگنا کے برابر ہے۔