پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پارٹی قیادت اور بعض رہنماؤں پرسخت تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیا ہےکہ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے 27ویں آئینی ترمیم کی عملی طور پر کوئی مخالفت ہی نہیں کی،ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پارلیمانی قیادت کی کارکردگی اس قدر کمزور ہے کہ اس سے بہتر ہے کوئی کارکن ڈی چوک جا کر دھرنا ہی دے دے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سیف اللہ ابڑو نے علی ظفر کی قیادت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ لیڈ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، ان کے مطابق عون عباس بپی کسی اہم پارلیمانی میٹنگ میں موجود ہی نہیں تھے اور اگر وہ نظر آتے تو کم از کم بیٹھ کر کوئی متفقہ فیصلہ کیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے وزارت داخلہ کی قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ کے لیے ان کا نام تجویز کیا تھا، مگر اندرونی سازشوں کے باعث یہ عہدہ ان سے چھین لیا گیا۔
سیف اللہ ابڑو نے الزام لگایا کہ پارٹی کے اپنے بعض لوگوں نے حکومتی شخصیات سے مل کر ان کے خلاف کام کیا، ان کے بقول چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، شیری رحمان اور اعظم نذیر تارڑ سے مل کر کمیٹی چیئرمین شپ ان سے لی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاور کمیٹی پہلے ہی ان سے ناخوش تھی اسی لیے انہیں وزارت داخلہ کی کمیٹی نہیں دی گئی اور اس سارے عمل میں عون عباس بپی اور علی ظفر کا کردار نمایاں رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ علی ظفر احتجاج کی بات کرتے ہیں مگر خود حکومتی دفاتر میں بیٹھے نظر آتے ہیں،سیف اللہ ابڑو کے مطابق فردوس شمیم نقوی مسلسل ان کے خلاف سرگرم رہے حالانکہ وہ خود آصف علی زرداری کے سیاسی مخالف رہے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ عون عباس بپی کو پنجاب کا صدر بنایا گیا تھا مگر وہ 9 مئی کے بعد استعفیٰ دے چکے تھے، اس کے باوجود دوبارہ پارٹی میں واپس آ گئے۔
سیف اللہ ابڑو کا کہنا تھا کہ انہوں نے بدترین حالات کے باوجود پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا جبکہ کئی اہم رہنما پارٹی چھوڑ کر واپس نہیں آئے، جن میں فواد چوہدری اور عمران اسماعیل شامل ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ رہنما واپس نہیں آ سکتے تو عون عباس بپی کی واپسی کیسے ممکن ہوئی ان کے مطابق فردوس
شمیم نقوی اب بھی اسد عمر کو پارٹی میں واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں،انہوں نے واضح کیا کہ اسد قیصر ان کے لیڈر ہیں، مگر بعض معاملات میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسد قیصر اور پرویز خٹک خود ایک ہی گاڑی میں پریس کانفرنس کے لیے گئے تھے نہ پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ لیٹر جاری ہوا اور نہ ہی انہیں کوئی شوکاز نوٹس یا خط ملا۔سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پارٹی اب عملی سیاست کے بجائے سوشل میڈیا تک محدود ہو چکی ہے جہاں فیصلے کیے جاتے ہیں مگر متاثرہ افراد کو باضابطہ طور پر کچھ بھی نہیں بتایا جاتا۔