سندھ کے ضلع حیدرآباد کی ضلعی انتظامیہ نے خونی کھیل اور خطرناک حادثات کے پیشِ نظر پتنگ بازی پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی ہے اور اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم جنوری سے 31 مارچ تک عوامی اور نجی مقامات پر پتنگ اُڑانے، پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت، تیاری یا ذخیرہ اندوزی پر مکمل پابندی ہوگی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس مدت کے دوران پتنگ بازی سے متعلق کسی بھی سرگرمی یا اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف متعلقہ تھانے کا انسپکٹر دفعہ 188 پی پی سی کے تحت کارروائی کرنے کا مجاز ہوگا۔ یہ پابندی شہر میں پتنگ بازی کے باعث بڑھتے ہوئے حادثات اور انسانی جانوں کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر عائد کی گئی ہے۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے بھی بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے باعث ممکنہ حادثات کو روکنے کے لیے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ صوبہ بھر میں کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025 کے تحت پتنگ سازی، فروخت اور پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہے۔
پنجاب حکومت نے بعض علاقوں میں غیر قانونی پتنگ بازی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مراسلے میں واضح کیا ہے کہ صوبائی کابینہ نے صرف 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں محدود پیمانے پر بسنت منانے کی اجازت دی ہے۔ مقررہ تاریخوں اور اجازت کے بغیر کسی بھی مقام پر پتنگ سازی یا پتنگ بازی غیر قانونی تصور ہوگی اور اس پر کارروائی کی جائے گی۔
اس اقدام سے دونوں صوبوں میں عوام اور انتظامیہ کو خطرناک حادثات سے بچانے اور نظم و ضبط قائم رکھنے میں مدد ملے گی، جبکہ غیر قانونی پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی یقینی بنائی جائے گی۔