تیمرگرہ میڈیکل کالج  کی ناکامی ، ڈی ایچ کیو ہسپتال دیر لوئر میں کرپشن ، اصل حقائق کیا ہے؟

تیمرگرہ میڈیکل کالج  کی ناکامی ، ڈی ایچ کیو ہسپتال دیر لوئر میں کرپشن ، اصل حقائق کیا ہے؟

خیبرپختونخوا کے ضلع دیر لوئر میں واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال تیمرگرہ میں انتظامی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ انتظامیہ نے منظور شدہ آسامیوں کے بغیر من پسند میڈیکل افسران کو غیر قانونی طور پر ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کے عہدوں پر تعینات کر دیا، جبکہ ہسپتال کے فارمیسی اور کیش کاؤنٹرز میں بڑے پیمانے پر مالی بدانتظامی بھی سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب تیمرگرہ میڈیکل کالج اور ڈی ایچ کیو ہسپتال کی انتظامیہ کے مابین اختیارات کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جو میڈیکل کالج کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ایکریڈیشن کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔

متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد محکمہ صحت نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی، جس نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال دیر لوئر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے منظور شدہ آسامیوں کے بغیر ازخود ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کی نشستیں تخلیق کر کے میڈیکل افسران کو تعینات کیا، جو قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ہسپتال کے او پی ڈی، ایمرجنسی، ایکسرے، لیبارٹری اور ریڈیالوجی سمیت تمام کیش کاؤنٹرز کسی باقاعدہ نظام کے بغیر دستی طریقہ کار کے تحت چل رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مریضوں کی اصل تعداد اور حاصل ہونے والی آمدن کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

اسی طرح صحت سہولت پروگرام کے تحت چلنے والی ہسپتال فارمیسی گزشتہ تین سالوں سے لائسنس کے بغیر کام کر رہی ہے، جبکہ وہاں تربیت یافتہ عملہ بھی موجود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کردہ ادویات کے بجائے مریضوں کو کم قیمت اور غیر معیاری ادویات فراہم کی جاتی ہیں، تاہم وصولی مہنگی ادویات کے نرخوں کے مطابق کی جاتی ہے۔ انکوائری کمیٹی نے ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ کنٹرول کے ذریعے ہسپتال میں مالی بدانتظامی سمیت دیگر معاملات کی مکمل تحقیقات کی سفارش کی ہے۔

انکوائری رپورٹ میں صحت سہولت پروگرام کے تحت ڈاکٹروں کو دیے جانے والے شیئر کے نظام میں بھی متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ شفاف پالیسی بننے تک اس نظام کو عارضی طور پر صوبہ بھر میں معطل کیا جائے۔

دستاویزات کے مطابق تیمرگرہ میڈیکل کالج کا افتتاح جولائی 2015 میں کیا گیا، تاہم اس وقت کالج کے لیے زمین دستیاب نہیں تھی۔ بعد ازاں 2018 اور 2019 میں کالج کو گرلز کامرس کالج کی عمارت میں منتقل کیا گیا۔ سال 2022 میں کالج کے لیے 136 ملازمین کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ کالج کا سالانہ بجٹ 32 کروڑ روپے ہے، جس میں 31 کروڑ 34 لاکھ روپے تنخواہوں اور 66 لاکھ روپے نان تنخواہ مد کے لیے مختص ہیں، لیکن اس کے باوجود نہ تو کالج کو پی ایم ڈی سی کی ایکریڈیشن مل سکی ہے اور نہ ہی ایک طالبعلم کو داخلہ دیا جا سکا ہے۔ ایکریڈیشن کیلئے ہسپتال میں مختلف شعبوں کا ہونا ضروری ہے لیکن ذرائع کے مطابق ہسپتال انتظامیہ شعبوں کو بنانے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کالج کو فیکلٹی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ پوسٹیں مشتہر ہونے کے باوجود کوئی بھی فیکلٹی ممبر وہاں تعیناتی کے لیے تیار نہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر انکوائری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ فیکلٹی تقرری کے لیے عمر کی حد 60 سال سے بڑھا کر نجی اداروں کی طرز پر 70 سال کی جائے تاکہ تعلیمی عملے کی کمی پوری کی جا سکے۔

انکوائری کمیٹی کی اہم سفارشات درج ذیل ہیں:

میڈیکل کالج اور ہسپتال کو ایم ٹی ائی کا درجہ دیا جائے تاکہ انہیں انتظامی و مالی خودمختاری حاصل ہو، یا حکومت فوری طور پر عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو فوری طور پر تبدیل کر کے کالج کے پرنسپل (چیف ایگزیکٹو افسر) کی مشاورت سے نئی تعیناتیاں کی جائیں، جو مالی و انتظامی معاملات میں جوابدہ ہوں اور پی ایم ڈی سی ایکریڈیشن کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

صحت کارڈ فارمیسی کو فوری طور پر سیل کر کے ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ کنٹرول کے ذریعے انکوائری کی جائے، جبکہ تمام کیش کاؤنٹرز کا آڈٹ بھی کیا جائے۔

ڈاکٹرز کی تنظیموں اور گروپس کو انتظامی معاملات میں مداخلت سے روکا جائے اور انہیں صرف نشاندہی تک محدود رکھا جائے۔

گائنی وارڈ میں سروس میں رکاوٹ پیدا کرنے والی خواتین ڈاکٹروں کو لیٹر آف ناراضگی جاری کر کے ان کے تبادلے کیے جائیں۔

رابطہ کرنے پر کالج کے پرنسپل پروفیسر ابرار نے بتایا کہ کالج شروع کرنے میں کسی نے دلچسپی نہیں لی اور اس وقت کالج میں 9 ڈیپارٹمنٹس، ہسپتال میں 29 ڈیپارٹمنٹس کا ہونا ضروری ہے اور ہر ایک شعبے کیلئے پروفیسر، ایسوسی ایٹ، اسسٹنٹ پروفیسر سمیت لیکچرر کی ضرورت ہے ۔

ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر بخت زادہ کا موقف لینے کیلئے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کے باوجود انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *