پاکستان ایئر فورس نے دفاعی میدان میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے ’تیمور ویپن سسٹم‘ کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔
ہفتہ کے روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس کامیاب آزمائش نے پاک فضائیہ کی طویل فاصلے تک درست اور مؤثر اسٹرائیک صلاحیت کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل‘ 600 کلومیٹر کی رینج کے ساتھ زمینی اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جدید میزائل جدید نیویگیشن اور گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے اور کم بلندی پر پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی بدولت یہ دشمن کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کامیاب تجربے کے بعد پاکستان فضائیہ کو یہ صلاحیت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ دشمن کے علاقے میں انتہائی گہرائی تک جا کر اہداف کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ پاک فضائیہ اب 600 کلومیٹر کے فاصلے سے مؤثر کارروائی کرنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے، جبکہ اس پیش رفت کے بعد بھارت کی بحری تنصیبات بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیت کی زد میں آ چکی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس کامیاب تجربے سے دشمن کی عسکری صلاحیت کو کاری ضرب پہنچی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تیمور ویپن سسٹم پاکستان میں مقامی سطح پر تیار کردہ ایک انتہائی جدید اور مؤثر کروز میزائل ہے، جو دفاعی صنعت میں خود انحصاری اور اعلیٰ تکنیکی مہارت کا واضح ثبوت ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تیمور میزائل کی کامیاب آزمائش سے پاک فضائیہ کی روایتی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ سسٹم پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری اور ٹیکنالوجیکل برتری کی علامت ہے۔
اس کامیاب تجربے پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان ایئر فورس اور پوری قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ قومی قیادت نے پاک فضائیہ کے افسران، انجینئرز اور سائنسدانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اس موقع پر کہا کہ ’یہ کامیابی قومی دفاع کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاس ہے‘۔ آئی ایس پی آر کے مطابق تیمور ویپن سسٹم کے فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ پاک فوج کے سینئر افسران اور سائنسدانوں نے کیا، جبکہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سائنسدانوں اور انجینئرز کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔