نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے وینزویلا میں مبینہ امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو و ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ میئر ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ کسی بھی خودمختار ملک پر یکطرفہ فوجی کارروائی نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ انہیں امریکی آپریشن اور وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو نیویارک سٹی میں وفاقی تحویل میں رکھنے کے منصوبے سے متعلق باضابطہ بریفنگ دی گئی ہے ان کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات انتہائی حساس اور دور رس اثرات کے حامل ہوتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
میئر نے واضح طور پر کہا کہ کسی آزاد اور خودمختار ملک پر فوجی حملہ کرنا عملی طور پر جنگ کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف امریکی وفاقی قوانین بلکہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستوں کی خودمختاری کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی تنازعات کا حل طاقت کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
ظہران ممدانی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور دیگر ممالک میں بھی عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیویارک ایک عالمی شہر ہے اور یہاں مختلف قومیتوں کے لوگ بستے ہیں، اس لیے ایسے واقعات کا براہِ راست اثر شہر کی فضا اور عالمی امن پر پڑتا ہے۔میئر نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور وینزویلا کے معاملے میں شفاف، قانونی اور پرامن راستہ اختیار کیا جائے تاکہ خطے میں مزید بحران سے بچا جا سکے۔