عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجوہات وینزویلا کی حالیہ سیاسی صورتحال اور اس پر عائد امریکی پابندیاں قرار دی جا رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ وینزویلا پر امریکی کارروائی کے بعد ملک کے بڑے تیل کے ذخائر پر امریکا کے عملی کنٹرول کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو بھی اس حوالے سے اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں جیو پولیٹیکل خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار عموماً محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع، خصوصاً سونے، کی جانب رجوع کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اس وقت وافر مقدار میں موجود ہے، تاہم وینزویلا کی برآمدات میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
امریکی پابندیوں کے باعث وینزویلا کی تیل برآمدات جنوری سے مکمل طور پر معطل ہیں، جس کے نتیجے میں ریاستی آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کو پیداوار میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور لاکھوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ گاہوں میں پھنس کر رہ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائی سے وینزویلا کے پیداواری یا ریفائننگ نظام کو براہِ راست نقصان نہیں پہنچا، تاہم پابندیوں کے باعث دسمبر میں برآمدات نصف ہو کر تقریباً پانچ لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی تھیں۔ جنوری سے امریکی کمپنی شیوران کو محدود پیمانے پر ایک لاکھ بیرل یومیہ برآمد کی اجازت دی گئی ہے۔
اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک، جنہیں اوپیک پلس کہا جاتا ہے، نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں تیل کی پیداوار موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی اقدام ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا اور ایران سے جڑے جغرافیائی سیاسی خطرات تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں، تاہم دیگر ممالک کی اضافی پیداوار اس اثر کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے۔
کیپیٹل اکنامکس کے مطابق وینزویلا میں قلیل مدتی سپلائی رکاوٹ کو دیگر خطوں کی پیداوار باآسانی پورا کر سکتی ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور ممکنہ مداخلت کے اشارے دیے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا وینزویلا میں تیل کی پیداوار بحال کرنے کے لیے سرمایہ کاری تو کرے گا، تاہم ملک میں بدانتظامی کے باعث فوری طور پر پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن نہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں محدود اضافہ تو ہو سکتا ہے، لیکن عالمی سطح پر وافر سپلائی کے باعث قیمتوں میں بڑے اتار چڑھاؤ کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔