اسلام آباد ہائیکورٹ اور اس کے ماتحت عدالتوں کے لیے ’پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025‘ کی منظوری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے چیف جسٹس اور معزز ججز کی منظوری سے نئے قواعد و ضوابط کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے بعد عدالتی نظام میں طریقہ کار کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ رولز آئین پاکستان کے آرٹیکل 202 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے منظور کیے گئے ہیں۔ رجسٹرار آفس کا کہنا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 کو 18 فروری 2025 کو گزٹ آف پاکستان میں شائع کیا گیا، جس کے بعد یہ قواعد قانونی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ نئے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 4 فروری 2025 سے نافذ العمل ہوں گے، اور ان کا اطلاق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ساتھ ساتھ اس کے ماتحت تمام عدالتوں پر بھی ہوگا۔ ان رولز کے نفاذ سے عدالتی کارروائی، کیس مینجمنٹ اور دفتری امور میں یکسانیت اور شفافیت لانے کا مقصد رکھا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق نئے رولز سے مقدمات کی سماعت کے طریقہ کار کو مزید منظم بنانے، غیر ضروری تاخیر کے خاتمے اور عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی۔ وکلا برادری کا کہنا ہے کہ واضح اور جامع قواعد کے نفاذ سے عدالتی کارروائی میں آسانی اور فریقین کو بہتر انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 کا نفاذ عدالتی اصلاحات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد انصاف کی بروقت اور مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔