شمالی افغانستان کے صوبہ تخار کے ضلع چاہ آب میں سونے کی کان کنی کے منصوبے پر طالبان اور مقامی رہائشیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، مقامی ذرائع کے مطابق طالبان سے منسلک ایک کان کنی کمپنی کے اہلکار اور طالبان جنگجو رہائشی علاقے میں داخل ہوئے، جس پر عوام نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
تفصیلات کے مطابق شمالی افغانستان کے صوبہ تخار کے ضلع چاہ آب مٰں سونے کی کان کنی کے منصوبے پر طالبان اور مقامی رہایشیوں کے درمیان شدیدجھڑپوں میں چار افراد کے ہلاک ہونے اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران چار افراد کے ہلاک ہونے اورمتعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبہ تخار کے چاہ آب ضلع میں رہائشیوں اور طالبان سے وابستہ سونے کی کان کنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مقامی ذرائع نے پیر 5 جنوری کو مقامی میڈیا کو بتایا کہ جھڑپوں کے دوران طالبان کی فائرنگ سے تین رہائشی مارے گئے۔
ذرائع کے مطابق ایک طالبان جنگجو بھی رہائشیوں کے بیلچے کے وار سے مارا گیا۔ ذرائع نے مزید کہا کہ سونے کی کان کنی کی کمپنیاں قندھار کے دو رہائشیوں سے منسلک ہیں جن کی شناخت حاجی محب اور حاجی روح اللہ روحانی کے نام سے ہوئی ہے جو کہ طالبان سے وابستہ ہیں، چینی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سونا نکال رہے ہیں۔
یہ جھڑپیں پچھلے واقعات کے باوجود ہوئیں جن میں سونے کی کان پر طالبان اور رہائشیوں کے درمیان جھگڑے بھی ہوئے تھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں طالبان کے ارکان کے درمیان اندرونی جھڑپ کے بعد، ایک طالبان رکن ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا۔
یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے، طالبان نے افغانستان بھر میں مختلف کانوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جس سے ملک کے کئی حصوں میں سونا اور دیگر معدنیات نکالنے پر تنازعات پیدا ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر بزدلانہ حملہ ناکام، جوابی کاروائی میں پانچ خارجی جہنم واصل
عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں سونے کی تلاش اور کان کنی کا منصوبہ مقامی آبادی کی مرضی کے بغیر شروع کیا جا رہا تھا، جس پر لوگوں نے احتجاج کیا۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب مبینہ طور پر حال ہی میں گاؤں پہنچنے والے کچھ افراد نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص زخمی ہوا۔
فائرنگ کے بعد مشتعل افراد نے کان کنی کمپنی کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ گزشتہ 4 برسوں کے دوران طالبان نے افغانستان کے مختلف صوبوں میں کان کنی کو آمدنی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر فروغ دیا ہے۔ سونا، کوئلہ، لیتھیم اور دیگر قیمتی معدنیات طالبان کی مالی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
مقامی باشندوں اور ناقدین نے بارہا طالبان کے زیرِ انتظام معدنی وسائل کی کان کنی میں شفافیت کے فقدان پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان خدشات میں یہ شامل ہے کہ کان کنی کے ٹھیکے کس بنیاد پر دیے جا رہے ہیں اور قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کہاں اور کیسے استعمال ہو رہی ہے۔