وفاقی وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے ملک بھر میں سست انٹرنیٹ سے پریشان صارفین کے لیے خوش خبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تیز رفتار اور مستحکم انٹرنیٹ سروس کی بحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور آنے والے مہینوں میں عوام کو اس حوالے سے نمایاں بہتری نظر آئے گی۔
شزا فاطمہ خواجہ نے یہ بات براق اسپیس کیمپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، براق اسپیس کیمپ کا آغاز 29 دسمبر 2025 کو ہوا تھا، جس میں ملک بھر سے منتخب کیے گئے 40 طلبہ نے شرکت کی، اس کیمپ کے دوران طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، اسپیس سائنس، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے متعلق عملی تربیت دی گئی۔
وفاقی وزیر نے کیمپ میں شریک طلبہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل قرار دیا، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہوتے ہیں اور ڈیجیٹل دور میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی، سائبر حملوں اور ڈیجیٹل سیکیورٹی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہنر مند اور باصلاحیت نوجوانوں کی تیاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے معرکۂ حق کے دوران نوجوانوں کے کردار کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں نے سائبر سیکیورٹی کے میدان میں قابلِ تعریف خدمات انجام دیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، حکومت اس صلاحیت کو مزید نکھارنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے مزید بتایا کہ حکومت ڈیجیٹل پاکستان کے وژن پر تیزی سے عمل پیرا ہے، جس کا مقصد عوام کو ڈیٹا، ٹیکنالوجی اور آن لائن سہولیات تک آسان اور مؤثر رسائی فراہم کرنا ہے، انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے انفراسٹرکچر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ چند ماہ میں فائیو جی سروس کے اجرا کی تیاری جاری ہے، جو پاکستان کے ڈیجیٹل سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نوجوانوں کو مختلف ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دے رہی ہے تاکہ وہ نہ صرف خود کفیل بن سکیں بلکہ ملکی معیشت کی مضبوطی میں بھی مؤثر کردار ادا کریں۔