تنخواہ دار طبقے سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی

تنخواہ دار طبقے سے متعلق   اہم خبر سامنے آگئی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں براہِ راست ٹیکس کا سب سے بڑا بوجھ تنخواہ دار طبقہ برداشت کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد نے مجموعی طور پر 266 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ہیں۔

ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار طبقے کو اپنی مجموعی آمدنی کا تقریباً 38 فیصد براہِ راست ٹیکس کی صورت میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور اخراجات میں مسلسل اضافے کے باوجود تنخواہوں سے ٹیکس کی کٹوتی بلا تعطل جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق نان کارپوریٹ تنخواہ دار ملازمین نے چھ ماہ کے دوران 117 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے کے نتیجے میں 23 ارب روپے زائد ٹیکس جمع ہوا۔ دوسری جانب کارپوریٹ شعبے کے ملازمین نے اسی عرصے میں 82 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کیلئے ڈیوٹی و ٹیکس فری درآمدات کی مشروط اجازت

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بھی ٹیکس وصولیوں میں بہتری سامنے آئی ہے۔ چھ ماہ کے دوران ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 126 ارب روپے وصول کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پلاٹس کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں 66 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ رقم 87 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ پلاٹس کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور وصولی 39 ارب روپے رہی۔

صوبائی حکومت کے ملازمین کی جانب سے ادا کیے گئے انکم ٹیکس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 39 ارب روپے کی کمی دیکھی گئی، تاہم وفاقی حکومت کے ملازمین سے ٹیکس وصولی میں 8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ رقم 27 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

ایف بی آر کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران مجموعی انکم ٹیکس وصولی 3 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئی، تاہم تاجروں اور امیر طبقے سے ٹیکس وصولیوں میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں جمع ہونے والے مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً 10 فیصد حصہ صرف تنخواہ دار طبقے نے فراہم کیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران اس طبقے نے مجموعی طور پر 555 ارب روپے ٹیکس ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے آئی ایم ایف سے ممکنہ رعایتیں لینے کیلیے وزارتوں سے تجاویز طلب کر لیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *