وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے لیے سوست بارڈر کے ذریعے متعدد اشیا کی ڈیوٹی اور ٹیکس کے بغیر درآمد کی مشروط اجازت دے دی ہے اس سہولت کے تحت درآمد اور کلیئرنس صرف اسی صورت ممکن ہو گی جب ہر کنسائنمنٹ کے لیے حکومتِ گلگت بلتستان کی مجاز اتھارٹی کسٹمز کے کمپیوٹرائزڈ کلیئرنس سسٹم میں باقاعدہ آن لائن اجازت نامہ جاری کرے گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایک مالی سال کے دوران سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں مجموعی طور پر 4 ارب روپے تک کی چھوٹ دی جائے گی۔ مقررہ حد مکمل ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں استعمال کے لیے درآمد کی جانے والی تمام اشیا پر معمول کے مطابق تمام متعلقہ ٹیکسز عائد ہوں گے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ سہولت صرف سوست کسٹمز ڈرائی پورٹ کے ذریعے درآمد ہونے والی مخصوص اشیا کے لیے ہوگی جن کی درجہ بندی متعلقہ نوٹیفکیشن میں دیے گئے پی سی ٹی کوڈز کے تحت کی گئی ہے نئے قواعد کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
ایف بی آر کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہوگا کہ درآمد کرنے والی فرم یا کمپنی مکمل طور پر ایسے افراد کی ملکیت ہو جو گلگت بلتستان کے ڈومیسائل ہولڈر ہوں اس کے علاوہ حکومتِ گلگت بلتستان اس بات کی پابند ہوگی کہ ٹیکس فری درآمد کی جانے والی تمام اشیا صرف گلگت بلتستان کی حدود میں ہی استعمال کی جائیں۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ٹیکس چھوٹ کا کوٹہ کسٹمز کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا اور سہولت پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر دی جائے گی۔
ایف بی آر نے مزید بتایا کہ اگر کسی مرحلے پر احتجاج، دھرنوں یا سڑکوں کی بندش کے باعث کسٹمز آپریشن متاثر ہوا تو کلیکٹر آف کسٹمز گلگت بلتستان کو صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس ٹیکس چھوٹ کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔