سلطنتِ عمان نے اپنی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عالمی مالیاتی نظام میں مؤثر مقام حاصل کرنے کے لیے ایک نئے عالمی مالیاتی مرکز کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
اس اہم فیصلے کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا، روزگار کے نئے امکانات پیدا کرنا اور معاشی تنوع کے عمل کو مزید تیز کرنا ہے۔
یہ فیصلہ سلطان ہیثم بن طارق کی زیرِ صدارت وزارتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نیا عمان گلوبل فنانشل سینٹر مکمل قانون سازی، انتظامی اور ریگولیٹری خودمختاری کے ساتھ کام کرے گا، اس مرکز میں جدید مالیاتی، قانونی اور عدالتی نظام متعارف کروایا جائے گا جو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہوگا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنا، جدید مالیاتی خدمات کو فروغ دینا اور عمان کو ایک مضبوط علاقائی و عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر ابھارنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مالیاتی مرکز عالمی بینکوں، سرمایہ کاری کمپنیوں، فنڈ مینیجرز اور خصوصی مالیاتی اداروں کے لیے ایک مسابقتی اور پرکشش پلیٹ فارم فراہم کرے گا، اس کے ذریعے نہ صرف عالمی مالیاتی منڈیوں میں عمان کی موجودگی مستحکم ہوگی بلکہ خطے کی ابھرتی ہوئی منڈیوں تک رسائی بھی مزید آسان ہو جائے گی، جس سے تجارتی اور مالی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
سلطان ہیثم بن طارق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں گے اور مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جائے گا۔
انہوں نے سرکاری شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور ہدایت کی کہ متحدہ سرکاری خدمات پورٹل کے ذریعے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید سہولیات عوام کو فراہم کی جائیں۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ عالمی اور علاقائی مالیاتی مراکز کے ماڈلز کے تفصیلی مطالعے کے بعد تیار کیا گیا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ اس کے ذریعے عمان کی معیشت کے امید افزا شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے اور پائیدار مواقع پیدا ہوں گے۔