عمان میں مقیم غیر ملکی ملازمین کے لیے اہم قانونی اپ ڈیٹس سامنے آئی ہیں جن کے تحت وطن واپسی، ملازمت کے اختتام اور ملک چھوڑنے کے طریقہ کار کو واضح اور سخت قواعد کے ساتھ منظم کر دیا گیا ہے تاکہ آجر اور کارکن دونوں کی ذمہ داریاں واضح رہیں اور کسی قسم کے تنازع سے بچا جا سکے۔
بیورو آف امیگریشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق نئے ضوابط کے تحت اگر کسی ملازم کا معاہدہ ختم ہو جائے تو آجر پر لازم ہوگا کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر اپنے خرچ پر ملازم کو اس کے وطن یا کسی متفقہ مقام تک واپس بھیجے جبکہ ملازم کی درخواست پر فوری طور پر کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہےجس میں واجبات کی عدم موجودگی کی تصدیق شامل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں :عمان میں ملازمت کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ملازم خود واپسی سے انکار کرے تو متعلقہ حکام اسے حکومت کے خرچ پر واپس بھیج سکتے ہیں، تاہم بعد میں یہ اخراجات آجر سے وصول کیے جا سکتے ہیں جبکہ اگر کسی ملازم کا قانونی کیس زیر سماعت ہو تو اسے ملک میں قیام کی اجازت دی جائے گی تاکہ وہ اپنے حقوق کا دفاع کر سکے۔
مزید برآں، وزیر محنت کو اختیار دیا گیا ہے کہ مخصوص حالات میں غیر ملکی کارکنوں کی واپسی کو ریگولیٹ کرے جن میں طبی بنیادوں پر نااہلی، جعلی اسناد، یا بغیر وجہ ملازمت چھوڑنے جیسے معاملات شامل ہیں، جس کا مقصد لیبر مارکیٹ میں شفافیت اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :عمان نے گولڈن ویزا اسکیم میں پاکستانیوں کو بھی شامل کر لیا، کیا آپ اہل ہیں؟
ملک چھوڑنے کے طریقہ کار میں بھی بہتری لائی گئی ہے جس کے تحت آجر کو ملازم کی درخواست پر بغیر کسی فیس کے اینڈ آف سروس سرٹیفکیٹ جاری کرنا ہوگا جس میں ملازمت کی مکمل تفصیلات درج ہوں گی جبکہ ملازم کے تمام ذاتی کاغذات واپس کرنا بھی لازمی ہوگا تاکہ دستاویزات روکنے جیسے مسائل کا خاتمہ کیا جا سکے۔
قانون میں غیر قانونی ملازمت کے خلاف سخت سزائیں بھی شامل کی گئی ہیں جن کے تحت اجازت کے بغیر کام کرنے یا دائرہ کار سے باہر ملازمت کرنے والے غیر ملکی کارکن کو آجر کے خرچ پر ملک بدر کیا جا سکتا ہے اور اس پر مستقل پابندی بھی لگ سکتی ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے آجر کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

