سال 2026میں سو نا سستا ہوگا؟اہم پیشگوئیاں سامنے آگئیں

سال 2026میں سو نا سستا ہوگا؟اہم پیشگوئیاں سامنے آگئیں

گزشتہ چند برسوں کے دوران سونا سرمایہ کاری کی دنیا میں ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد اثاثے کے طور پر نمایاں رہا ہے،عالمی معاشی حالات میں اتار چڑھاؤ، سیاسی کشیدگی اور مالیاتی نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث سرمایہ کاروں نے سونے کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر اختیار کیا۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مستقبل قریب میں بھی برقرار رہ سکتا ہے اور 2026 کے دوران سونے کی قیمتیں نئے ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔

عالمی مالیاتی اداروں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق آنے والے سال میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے،عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات، جغرافیائی سیاسی تنازعات اور معاشی غیر یقینی صورتحال اس اضافے کی بنیادی وجوہات بتائی جا رہی ہیں، بین الاقوامی سرمایہ کاری بینکوں کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے مالیاتی منڈیاں دباؤ کا شکار ہوں گی سرمایہ کار سونے کی طرف مزید رجوع کریں گے۔

معروف سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس کے مطابق 2026 کے اختتام تک سونے کی قیمت تقریباً 4 ہزار 900 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں مضبوط طلب، مرکزی بینکوں کی مسلسل خریداری اور معاشی خدشات سونے کی قیمتوں کو سہارا دے رہے ہیں۔ اسی طرح جے پی مورگن نے اس سے بھی زیادہ پرامید اندازہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2026 کے آخر تک سونے کی قیمت 5 ہزار 55 ڈالر فی اونس تک جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق نرم مالیاتی پالیسیاں اور مرکزی بینکوں کی جانب سے ذخائر میں اضافہ اس رجحان کو تقویت دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سونا پھر تاریخی بلندی پر، فی تولہ قیمت جان کر ہوش اُڑ جائینگے

دوسری جانب کچھ اداروں نے نسبتاً محتاط پیش گوئیاں کی ہیں۔ ڈوئچے بینک کے مطابق 2026 میں سونے کی اوسط قیمت 4 ہزار 450 ڈالر فی اونس رہنے کا امکان ہے، تاہم قیمتیں 3 ہزار 950 سے 4 ہزار 950 ڈالر کے درمیان بھی رہ سکتی ہیں۔ مورگن اسٹینلے نے بھی محتاط رویہ اپناتے ہوئے سونے کی قیمت 4 ہزار 400 ڈالر فی اونس تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ بینک آف امریکا کے مطابق اوسط قیمت 4 ہزار 538 ڈالر ہو سکتی ہے، جبکہ سازگار حالات میں یہ 5 ہزار ڈالر کے قریب بھی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں اضافہ، ممکنہ شرح سود میں کمی اور عالمی سیاسی و معاشی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینک سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اپنے ذخائر میں شامل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :سوناخریدنا خواب بن گیا، قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

  بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قلیل مدت میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر امریکی ڈالر مضبوط ہوا یا شرح سود میں متوقع کمی نہ ہو سکی تو سونے کی قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود مالی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ طویل المدتی بنیادوں پر سونا اب بھی ایک مضبوط، محفوظ اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کا ذریعہ بنا رہے گا۔

editor

Related Articles