سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت پاکستان تحریک انصاف کو کراچی کے باغِ جناح میں جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دینے جا رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تمام سیاسی جماعتوں کو آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں کرنے کا حق حاصل ہے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے کراچی دورے کے موقع پر ان کا بھرپور استقبال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی سندھ آئیں، سیاسی سرگرمیاں کریں اور جلسہ بھی کریں، اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے،ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کی پرامن سیاسی جدوجہد کو نہیں روکا جا سکتا، تاہم اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے اور کراچی میں جلسے کے حوالے سے کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی گئی،انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کورنگی اور ضلع ساؤتھ میں جلسے کے لیے درخواست دی گئی تھی۔
کورنگی میں سڑک پر جلسے کی اجازت مانگی گئی جس پر ڈپٹی کمشنر نے مؤقف اختیار کیا کہ سڑک پر جلسے سے ٹریفک اور عوامی مشکلات پیدا ہوں گی، اس لیے کسی متبادل مقام کا انتخاب کیا جائےبعد ازاں پی ٹی آئی نے باغِ جناح میں جلسے کی اجازت طلب کی جو سندھ حکومت کی جانب سے دی جا رہی ہے وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ کراچی میں جلسے کے لیے پی ٹی آئی کو مکمل طور پر قانون کے مطابق اجازت دی جا سکتی ہے اور سندھ حکومت سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے کسی امتیازی رویے پر یقین نہیں رکھتی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے متوقع دورہ کراچی سے متعلق اہم تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے ہمراہ 60 سے زائد اراکین پارلیمنٹ اور پارٹی رہنما کراچی جائیں گے۔قافلے میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے 51 اراکین شامل ہوں گے جبکہ قومی اسمبلی کے 8 ارکان بھی وزیراعلیٰ کے ساتھ ہوں گے۔ذرائع نے بتایا کہ صوبائی وزرا بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وفد کا حصہ ہوں گے، تاہم صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے مصروفیات کے باعث اس دورے سے معذرت کر لی ہے۔
دورے کے شیڈول کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے ہمراہ وفد جمعہ کے روز صبح 9 بجے اسلام آباد سے کراچی روانہ ہوگا وزیراعلیٰ دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک انصاف ہاؤس کراچی میں پارٹی قائدین اور رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے، جہاں تنظیمی امور اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر مشاورت متوقع ہے۔