پنجاب حکومت کی جانب سے شوگر سیس کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے اثرات لاہور کی اوپن مارکیٹ میں بھی نمایاں ہو گئے ہیں۔حالیہ اضافے کے بعد لاہور میں چینی کی فی کلو قیمت میں 10 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اب چینی 160 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے جو عام صارفین کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق چینی کی موجودہ قیمتیں حقیقی لاگت سے کہیں زیادہ ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مارکیٹ کے عوامل کو مدنظر رکھا جائے تو چینی کی قیمت 150 روپے فی کلو ہونی چاہیے تھی، تاہم شوگر سیس اور دیگر انتظامی عوامل کی وجہ سے قیمت میں بلاجواز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی پہلے ہی ان کی قوتِ خرید کو متاثر کر رہی ہے اور اب چینی جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں اضافہ مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ادھر لاہور کی مشہور اکبری منڈی میں بھی چینی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اضافے کے بعد چینی کا 50 کلوگرام کا تھیلا 7 ہزار 500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس وقت چینی کا ایکس مل ریٹ 135 روپے فی کلو ہے جس کے باوجود ریٹیل سطح پر قیمت اس سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہے۔اس فرق پر صارفین اور تاجر دونوں ہی سوالات اٹھا رہے ہیں کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں چینی کی کوئی قلت نہیں اور وافر مقدار میں دستیاب ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق جب سپلائی میں کمی نہیں تو قیمتوں میں اس قدر اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے قیمتوں پر نظر رکھیں اور غیر ضروری منافع خوری کو روکا جائے۔واضح رہے کہ حکومت پنجاب نے یکم جنوری سے چینی پر شوگر سیس نافذ کیا ہے، جس کے تحت 40 کلوگرام چینی پر 5 روپے سیس وصول کیا جا رہا ہے۔