پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیوں میں ممکنہ توسیع سے متعلق بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے اس حوالے سے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے عوام سے رائے مانگ لی ہے۔
وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا تعلیمی ادارے 12 جنوری سے دوبارہ کھول دئیے جائیں یا سرد موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے چھٹیوں میں 19 جنوری تک توسیع کی جائے۔
رانا سکندر حیات نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت والدین، اساتذہ اور طلبہ کی آراء کو اہمیت دیتی ہے، اسی لیے اس فیصلے میں عوامی رائے شامل کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سردی کی شدت، بچوں کی صحت اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل جیسے عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ عوامی مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی اعلان کیا جائے گا اس سے قبل وزیر تعلیم پنجاب نے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں اضافے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی تھی۔
انہوں نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں اور تمام اسکولز اور کالجز پہلے سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق 12 جنوری سے ہی کھلیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی توسیع کا اس وقت کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تھا دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے سرد موسم کی شدت کے پیش نظر صوبے کے میدانی علاقوں میں اسکولوں کی سردیوں کی چھٹیاں بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پنجاب میں بھی والدین اور اساتذہ کی جانب سے اسی نوعیت کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔
خاص طور پر صبح کے اوقات میں شدید سردی کے باعث کم عمر بچوں کی صحت کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر پنجاب کے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں توسیع سے متعلق ایک جعلی نوٹیفکیشن وائرل ہوا تھا، جس نے والدین اور طلبہ میں الجھن پیدا کر دی تھی۔