ہندو انتہا پسند عناصر کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں اور بھارتی حکومت کی سخت گیر پالیسیوں کے باوجود بنگلہ دیش نے بھارت کو واضح اور دوٹوک جواب دیتے ہوئے سفارتی، انتظامی اور اسپورٹس سطح پر سخت اقدامات کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان اقدامات نے خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی تنہائی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندوتوا نظریے پر مبنی انتہا پسندانہ طرزِ حکمرانی کے باعث بھارت نہ صرف عالمی بلکہ علاقائی سطح پر بھی شدید دباؤ اور تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش سمیت دیگر ہمسایہ ممالک میں بھارت مخالف جذبات میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مودی حکومت کی مبینہ پشت پناہی میں بنگلہ دیشی نوجوان کارکن ‘عثمان ہادی’ کے قتل کے بعد ڈھاکا نے نئی دہلی کے گرد سفارتی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ اس واقعے کو بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت کی ایک سنگین مثال قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بنگلہ دیش کی جانب سے کیے گئے متعدد اعلانات کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی عالمی سطح پر بھارت کی ہزیمت کی بالواسطہ توثیق کر دی ہے۔ بھارت میں مودی نواز انتہا پسند گروہوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت کے لیے ویزوں کے اجرا پر پابندی عائد کر دی ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے ‘این ڈی ٹی وی’ کے مطابق بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کے مشیر ایم توحید حسین نے بھارت میں مزید تین اہم سفارتی مشنز میں ویزا خدمات معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئی دہلی، کولکتہ اور اگرتلہ میں قائم بنگلہ دیشی مشنز کو ویزا سیکشنز بند رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی جریدے ‘فارن پالیسی’ نے بھی بنگلہ دیش کے اقدامات کو مودی حکومت کے لیے ایک بڑی سفارتی رسوائی قرار دیا ہے۔ جریدے کے مطابق بھارتی مداخلت اور انتہا پسندی کے پیش نظر بنگلہ دیش نے انڈین پریمیئر لیگ ‘آئی پی ایل’ کی نشریات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
‘فارن پالیسی’ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے بھی آئندہ ورلڈ کپ کے دوران بھارت میں میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جو کھیلوں کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور سخت قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیشی حکام کا مؤقف ہے کہ بھارت طویل عرصے سے ملک کی اندرونی سیاست اور خارجہ پالیسی میں مداخلت کرتا آ رہا ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق بھارت کی ہمسایہ ممالک میں مسلسل مداخلت سرحدی تنازعات کو ہوا دے رہی ہے اور یہ طرزِ عمل عالمی قوانین اور علاقائی استحکام کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ بھارت کے مبینہ دہشت گردانہ اور انتہا پسندانہ عزائم نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہیں۔ ہندوتوا نظریات اور بالادستی کے عزائم کے باعث بھارت کو اب ایک ‘نیٹ ریجنل ڈیسبلائزر’ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات خطے کی سیاست پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔