خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں مختلف کارروائیوں میں 8 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک کر دیے ہیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق گزشتہ رات تھانہ ڈومیل کی حدود میں واقع کاشو پل پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے اچانک چاروں اطراف سے حملہ کیا، جس کے بعد پولیس اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے اسنائپر رائفل کا بھی استعمال کیا گیا، تاہم پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ پولیس کی مؤثر فائرنگ کے نتیجے میں دہشتگرد فرار ہونے پر مجبور ہو گئے جبکہ واقعے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پولیس حکام کے مطابق حملے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن کیا گیا تاکہ فرار ہونے والے دہشتگردوں کو گرفتار کیا جا سکے۔ سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اہم مقامات پر پولیس نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف سی ٹی ڈی کی کارروائیاں بھی جاری ہیں، جن کے دوران مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 8 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق پشاور کے نواحی علاقے ٹپوسانو باچا قبرستان میں خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 3 دہشتگرد مارے گئے۔ اسی طرح ضلع خیبر کے علاقے شاہ کس میں ایک اور کارروائی کے دوران 3 دہشتگرد انجام کو پہنچ گئے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشتگرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور دیگر دہشتگردانہ کارروائیوں میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو مطلوب تھے۔ کارروائی کے بعد دہشتگردوں کے فرار ساتھیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
مزید برآں ضلع بنوں کے علاقے جھنڈوخیل میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران دو خارجی دہشتگرد مارے گئے۔ کارروائی کے دوران ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور کالعدم تنظیم کے کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔