ایران نے اپنی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کیلئے بند کردی ہے اور صرف بین الااقوامی پروازوں کو اجازت کے ساتھ فضائی حدود استعمال کرنے دی جائے گی۔
ایران کیجانب سے سوا دو گھنٹے کے لیے جاری ایڈوائزری کو مزید 3 گھنٹے کے لیے بڑھا دیا گیا، پاکستانی وقت صبح ساڑھے 8 بجے تک مؤثر رہے گی۔
ادھر ایران میں سیکیورٹی صورتحال کے سبب امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے اپنے شہریوں کو ایران فوری چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ قطر میں امریکی فوجی ایئر بیس العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکلنے کاحکم دے چکی ہے جبکہ برطانیہ نے بھی قطر کے امریکی فوجی اڈے سے اپنا عملہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دریں اثنا امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل نے حملے میں پہل نہ کرنے کا یقین دلادیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہےکہ اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے کو خفیہ پیغامات بھیجے، یقین دہانی کرائی کہ دونوں ایک دوسرے پر پہلے حملہ نہیں کریں گے، روس نےثالثی کا کردار ادا کیا۔
علاوہ ازیں امریکی اخبار نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قطر اوراومان نے ایران پر امریکی حملے کی مخالفت کی ہے۔
ایران پر حملے کی صورت میں امریکی بمبار طیارے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائل استعمال کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک نے کہا کہ امریکا ایران پر حملہ نہ کرے، ورنہ عالمی آئل مارکیٹ ہل جائے گی، جس سے امریکی معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رکھنے کی صورت میں سخت ردعمل دے گا۔
علاوہ ازیں مغربی فوجی حکام کے حوالے سے برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کا بڑا دعویٰ سامنے آٰیا ہے جس میں برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق تمام اشارے ہیں کہ ایران پر عنقریب حملہ ہونے والا ہے۔
مغربی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ غیر متوقع پن امریکی حکمت عملی کاحصہ ہے۔