ایران میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ تھم گیا، انٹرنیشنل کالز بھی بحال

ایران میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ تھم گیا، انٹرنیشنل کالز بھی بحال

ایران میں کئی روز سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ تھم  گیا ہے جس کے بعد ملک میں انٹرنیشنل کالز سروس بحال کر دی گئی۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مظاہروں کا سلسلہ تھمنے کے باوجود ایران میں انٹرنیٹ سروس تاحال بند ہے، امریکی انسانی حقوق تنظیم نے دعویٰ کیا ہے ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 1850 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔

قبل ازیں ترجمان یو این ہیومن رائٹس نے کہا تھا کہ ایران میں پرتشدد واقعات میں مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، ان واقعات کو جلد از جلد روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے، 2022ء کے بعد ایران کو سب سے بڑے مظاہروں کا سامنا ہے۔

اس حوالے سے ایرانی انٹیلی جنس حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ پکڑ لیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ان کے پاس بیرونِ ملک سے دہشت گرد ایجنٹوں کو احکامات دینے کے شواہد موجود ہیں، ہم نہيں سمجھتے کہ امریکا منصفانہ مذاکرات کیلئے تیار ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، اداروں پر قبضہ کرلیں،مدد پہنچ رہی ہے، ٹرمپ

عباس عراقچی کا مزید کہنا ہے کہ امریکا نے ملٹری آپریشن کی کوشش کی تو ایران تیار ہے، ایران نے ملک میں مہنگائی کے خلاف جائز احتجاج کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا، مظاہرین سے ریلیف کی بات چیت جاری تھی کہ ٹرمپ کو مداخلت کا موقع فراہم کرنے کیلئے سازش کے تحت مظاہروں کو پُرتشدد کردیا گیا تاکہ ایران کے خلاف بیرونی فوجی طاقت کا ممکنہ جواز تلاش کیا جا سکے۔

دریں اثنا امریکی صدر ٹرمپ نے ایران سے تمام سفارتی روابط منقطع کردیے ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی قیادت کے خلاف اپنی زبان کو سخت کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ اور ان کے قومی سلامتی کے حکام ممکنہ فوجی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’میک ایران گریٹ اگین، میں نے ایرانی حکام سے تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ایران میں مظاہرین احتجاج جاری رکھیں مدد راستے میں ہے، مظاہرین احتجاج میں شدت لائیں اور اداروں کو اپنے کنٹرول میں لے لیں۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگائیں گے لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ کس طرح نافذ کیے جائیں گے اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا کہ یہ ٹیرف کب اور کیسے نافذ ہوں گے۔

editor

Related Articles