برطانوی میڈیا کی رپورٹ میں افغان طالبان کی قیادت میں اندورنی اختلافات کی تفصیلات سامنے آئیں ہیں، جس میں ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے طالبان کے سربراہ نے اندرونی بغاوت سے خبردار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان میں طاقت کی کشمکش کو “قندھار بمقابلہ کابل” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق قندھار دھڑا افغان طالبان کے اعلیٰ رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ کے حامی ہیں اور سخت گیر موقف پر قائم ہے، جبکہ کابل میں موجود طالبان کا دوسرا دھڑا ہبت اللہ کے موقف کا مخالف ہے اور تعلیم و عالمی تعلقات کے فروغ کی حمایت کرتا ہے۔ کابل دھڑے کا کہنا ہے کہ ملک کی ترقی اور عالمی سطح پر تعلقات مضبوط کرنے کے لیے اعتدال پسندی اور جدید تعلیم کی ضرورت ہے۔
برطانوی میڈیا نے یہ بھی نشاندہی کی کہ طالبان کے اندرونی اختلافات اسلامی امارت کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور یہ انتشار ممکنہ طور پر حکومت کے خاتمے یا کمزور ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں افغان طالبان کے اندرونی محاذ آرائی کے اثرات اور ملک میں سیاسی و سماجی استحکام کے حوالے سے خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے، جس سے افغانستان کی داخلی صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر مستحکم ہو گئی ہے۔