فیاض الحسن چوہان نے خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا سکینڈل بے نقاب کردیا

فیاض الحسن چوہان نے خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا سکینڈل بے نقاب کردیا

فیاض الحسن چوہان نے وادی تیراہ خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا مالی سکینڈل بے نقاب کردیا ۔ 

آذاد ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے وادی تیراہ سے متعلق ٹویٹ پر بات کرتے کہا  کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے آئی ڈی پیز کی منتقلی کے لیے  4 ارب کی منظوری دی تھی تاکہ جہاں  ٹارگٹڈ آپریشن ہو رہا ہے وہاں آئی ڈی پیز کو عزت، احترام اور وقار کے ساتھ وادی تیراہ سے محفوظ طور پر منتقل کیا جا سکے، لیکن ابھی یہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ انہوں نے صرف عملی طور پر صرف 2 ارب روپے مختص کیے گئے، باقی کہ دوارب  کہاں گئے ؟ ۔

  انہوں نے سوال کیا کہ پوری پاکستانی قوم ان سے پوچھ رہی ہے کہ جس طریقے سے 6ہزار سے زائد ارب  روپیہ وفاق نے انہیں دیا اوریہ کہتے ہیں کہ ہمیں 2200 ارب ملا ،بالکل اسی طرح چار ارب کی منظوری سے یہ دو ارب  روپے مختص کیے ، تو باقی دو ارب کرپٹ اس وزیراعلی اور ان کے ساتھیوں کی جیبوں میں جائے گا ۔

فیاض الحسن کا کہنا تھا کہ یہ پیسہ کرپٹ عناصر اور اسمگلرز کی جیبوں میں جا رہا ہے ، اس لیے میں خاص طور پر خیبر اور قبائلی عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ یہ سوال ضرور کریں کہ ان کا پیسہ کہاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف اب پی ٹی ایم 2 بن چکی ہے، لیگی رہنما ارباب خضر حیات

انہوں نے  خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع کے عوام سے اپیل کی کہ وہ  اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں ،  یہ رقم عوام کے لیے منظور کی گئی تھی اور عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے وادی تیراہ کے ٹارگٹڈ آپریشن اور وہاں سے لوگوں کی نقل مکانی کے حوالے سے جھوٹ اور فریب پر مبنی معلومات پوسٹ کیں ۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وادی تیرہ میں دہشتگردوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ، منشیات و سمگلنگ کا کاروبار عروج پر ہے، جس کا پیسہ دہشتگردی پر خرچ ہوتا ہے۔جبکہ کے پی اسمبلی کی منظوری اور تحریک انصاف کی حکومت کی اجازت سے یہ آپریشن شروع کیا گیا ۔

editor

Related Articles