خیبر پختونخوا کے دیر اپر ضلع کے شیرینگل علاقے میں جٹکول گاؤں کے قریب 2019 سے 2026 کے درمیان تقریباً 66.58 ہیکٹر قدرتی جنگلات کو مکمل طور پر کاٹ دیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وائرل ہونے والی سٹیلائٹ تصاویر میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ صوبائی حکومت بلین ٹری سونامی (اب ٹین بلین ٹری سونامی) پروجیکٹ کے تحت اربوں درخت لگانے کے دعوے کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کوہستان میں جنگلات کی کٹائی کی ویڈیو کا معاملہ: پی ٹی آئی رہنما اظہر مشوانی نے فیکٹ چیک کے بعد ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دی
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنےوالے سینیئر صحافی عرفان خان نے نے 2019 اور 2025 کی سیٹلائیٹ تصاویر شیئر کیں جن میں گھنے سبز جنگلات کو نشان زدہ علاقوں میں 2025 تک صاف کر دیا گیا، دکھایا گیا ہے۔ پوسٹ میں سوال اٹھایا گیا کہ ’کیا بلین ٹری کا دعویٰ صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے؟‘۔
خیبرپختونخوا میں درختوں کی قاتل حکمران، انتظامیہ یا مافیا
خیبرپختونخوا سے سرسبز و شاداب اور گھنے جنگلات کا صفایا
جہاں بلین ٹری سونامی کے تحت ایک ارب پودے لگانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے وہاں تیزی کیساتھ تناور درختوں اور جنگلات کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عمل بھی جاری ہے
سیٹیلائیٹ سے… pic.twitter.com/M4HwdpaVA7— Irfan Khan (@irfijournalist) May 12, 2026
عرفان خان نے Space4Climate.gov.pk کا ایک لنک بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے جس نے 6 مئی 2026 کو ایک تفصیلی بلاگ شائع کیا جس میں تصدیق کی گئی کہ ہائی ریزولوشن سیٹلائیٹ ڈیٹا کے مطابق شیرینگل کے 13 ہاٹ سپاٹ مقامات پر 66.58 ہیکٹر قدرتی جنگل کاٹا گیا۔
اس تباہی سے مقامی حیاتیاتی تنوع، جنگلی حیات کے رہائش گاہوں، مٹی اور پانی کے کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
https://space4climate.gov.pk/massive-deforestation-event-in-upper-dir/

