پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی قیادت، کارکردگی اور اندرونی معاملات پر کر تنقید کی اور پارٹی کی تمام صورتحال بے نقاب کردی ۔
ان کا کہنا تھا کہ2024 کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے ووٹ حاصل کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے اور پارٹی کی عوامی مقبولیت محض خوش فہمی پر قائم تھی۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض کم فہم لوگ یہ دعویٰ کرتے رہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے پارٹی کو فائدہ پہنچے گا جو کہ ایک غیر سنجیدہ اور حقیقت سے دور سوچ تھی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عوام سے جو وعدے کیے وہ انہیں پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی، اسی وجہ سے عوام کا اعتماد ختم ہوا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں جو ووٹ ملے وہ پارٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی ذاتی جرات اور بے باک مؤقف کی بنیاد پر تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی صرف خیبرپختونخوا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور ملک کے دیگر حصوں میں اس کا کوئی مؤثر وجود نہیں،شیر افضل مروت نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کے پی حکومت درحقیقت پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے جبکہ دو مرتبہ صوبے میں پی ٹی آئی کی کارکردگی عوام کے لیے مایوس کن رہی۔
پارٹی قیادت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ علیمہ خان پی ٹی آئی کی چیئرپرسن بننے کی خواہشمند ہیں اور پارٹی کو آہستہ آہستہ موروثی سیاست کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا علیمہ خان یہ سمجھتی ہیں کہ عمران خان کی بہن ہونے کے ناطے انہیں پارٹی چلانے کا حق حاصل ہے جبکہ سلمان اکرم راجہ کو جنرل سیکرٹری تسلیم ہی نہیں کیا سکتا ۔
شیر افضل مروت نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ کوششیں ترک کی جا چکی ہیں اور پارٹی کے سوشل میڈیا ونگ نے بھی پی ٹی آئی کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں بار بار فیصلے تبدیل کرنا عمران خان کی شخصی کمزوری ہےجس سے تنظیم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پارٹی کو تین ماہ کے لیے ان کے حوالے کیا جائے تو وہ دس لاکھ افراد کو متحرک کر سکتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ سیاست کسی کی نوکری کرنے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ نظریے اور اصولوں کے تحت کی جاتی ہے، مگر بدقسمتی سے پی ٹی آئی اس راستے سے ہٹ چکی ہے۔