حقیقت دکھانے کی سزا؟ سکھ رہنما کی زندگی پر مبنی فلم ستلج بھارت میں ہٹا دی گئی

حقیقت دکھانے کی سزا؟ سکھ رہنما کی زندگی پر مبنی فلم ستلج بھارت میں ہٹا دی گئی

بھارت میں سکھ رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی فلم ’’ستلج‘‘ کو ریلیز کے کچھ ہی وقت بعد اسٹریمنگ پلیٹ فارم ذی فائیو (ZEE5) سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد ایک بار پھر بھارت میں اظہارِ رائے کی آزادی اور تاریخی واقعات کی عکاسی پر بحث چھڑ گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلم، جس کا ابتدائی نام ’’گھلوگھارا‘ اور بعد میں ’’پنجاب 95‘‘ رکھا گیا تھا، پنجاب میں 1980 اور 1990 کی دہائی کے دوران جبری گمشدگیوں اور خفیہ آخری رسومات کے الزامات پر مبنی ہے۔ فلم میں انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی جدوجہد دکھائی گئی ہے، جنہوں نے ان واقعات کی تحقیقات کی تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خالڑا کو 1995 میں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں ان کے قتل کے مقدمے میں متعدد پولیس اہلکاروں کو سزا بھی سنائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:زارا نور عباس نے انڈسٹری کی دوستیاں ختم کرنے کی وجہ بتا دی

فلم کو ریلیز سے قبل بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن  نے پہلے اس کا نام تبدیل کرنے کی ہدایت دی، پھر متعدد مناظر اور مکالموں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے 127 ترامیم کا مطالبہ کیا۔ فلم سازوں نے ان شرائط کو قبول کرنے کے بجائے فلم کو سینما گھروں میں ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے براہ راست اسٹریمنگ پلیٹ فارم ذی فائیوپرجاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں :وقت گزر گیامگر ماہ نور بلوچ کی دلکشی برقرار،نئی تصاویر توجہ کا مرکز

ہدایت کار ہنی ٹریہن کا کہنا تھا کہ آن لائن جاری کی گئی فلم میں کوئی کٹوتی نہیں کی گئی، تاہم ریلیز کے کچھ ہی عرصے بعد اسے بھارت میں پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ ذی فائیونے کہا ہے کہ وہ فلم کو دوبارہ دستیاب کرانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔

تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق فلم کو اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹایا جانا بھارت میں حساس تاریخی موضوعات، سکھ برادری سے متعلق واقعات اور اظہارِ رائے کی آزادی پر عائد پابندیوں سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔  بھارت کی جانب سے تاریخی واقعات اور ریاستی اداروں سے متعلق متنازع موضوعات پر بننے والی فلموں کو بار بار سنسرشپ، نام کی تبدیلی، سینکڑوں ترامیم کے مطالبات یا ریلیز کے بعد ہٹائے جانے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے آزادانہ اظہار مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کاشف ضمیر ایک بار پھر قانونی گرفت میں، نیا مقدمہ درج

بھارتی فلم انڈسٹری کی جانب سے اس  قسم کے اقدامات نہ صرف تاریخ کے مختلف پہلوؤں پر عوامی بحث کو محدود کرتے ہیں بلکہ انسانی حقوق سے متعلق اہم معاملات کو بھی پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے نے ایک بار پھر بھارت میں سنسرشپ، جمہوری آزادیوں اور اظہارِ رائے کے حق پر سیاسی اثر و رسوخ کا  رنگ صاف دکھا ئی دیتا ہے۔

editor

Related Articles