پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں باقاعدہ درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ نہ صرف غیر قانونی بلکہ عوام دشمن اقدام ہے جس سے ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
درخواست سماجی کارکن اور وکیل اظہر صدیق نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر کی ہے۔ درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت توانائی، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر پچپن روپے اضافہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات معیشت کے تقریباً ہر شعبے پر مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹرز برہم، ملک بھر میں کرایوں میں بڑا اضافہ
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اور بڑے پیمانے پر اضافہ ملک میں پہلے سے جاری مہنگائی میں مزید شدت پیدا کرے گا۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں اشیائے خور و نوش، سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔ اس کے علاوہ بجلی کی پیداوار، زراعت اور صنعتی شعبہ بھی براہ راست متاثر ہوگا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عام شہریوں کے لیے شدید معاشی مشکلات پیدا کرتا ہے کیونکہ ملک کی بڑی آبادی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں پیٹرول مہنگا کرنا عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت میں کیا جب مبینہ طور پر آئل کمپنیوں کے پاس تقریباً 15 دن کا وافر ذخیرہ موجود تھا۔ درخواست گزار کے مطابق اگر واقعی اتنا ذخیرہ موجود تھا تو قیمتوں میں فوری اضافے کی کوئی معقول وجہ سامنے نہیں آتی۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اور وزارت توانائی کو ہدایت دی جائے کہ وہ عدالت کے سامنے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور حالیہ اضافے کی وجوہات سے متعلق مکمل تفصیلات پیش کریں تاکہ اصل صورتحال واضح ہو سکے۔
درخواست گزار نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت شفافیت اور عوامی مفاد کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے تھا کہ قیمتوں میں اضافے سے قبل پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیا جاتا اور اس فیصلے کے معاشی اثرات کا جائزہ بھی لیا جاتا۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی اصولی منظوری دے دی

