سینئر تجزیہ کار حسن ایوب نے اپنے حالیہ پوڈ کاسٹ میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر سخت تنقید کی۔ حسن ایوب نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ کی کارکردگی صفر سے نیچے ہے، بلکہ وہ منفی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اپنی ناقص کارکردگی کے باوجود دوسروں پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، اور خود احتسابی کے بجائے جھوٹ اور بے بنیاد الزامات کا سہارا لے رہے ہیں۔
حسن ایوب نے وزیر اعلیٰ کے ماضی کے بیانات سے متعلق بھی بات کی اور کہا کہ سہیل آفریدی نے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے بارے میں بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے اور انہوں نے ان الزامات کو متعدد بار اپنے ولاگس اور ٹی وی پروگرامز میں زیر بحث لایا تھا، مگر سہیل آفریدی نے اس بارے میں کوئی واضاحت نہیں پیش کی۔
حسن ایوب نے مزید دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے پاس 15 کروڑ روپے کا ایک سیکرٹ فنڈ رکھا گیا ہے جس کے استعمال کی تفصیل وزیر اعلیٰ کو عوام کے سامنے لانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس پیسے کا کیا ہوا؟ آیا یہ فنڈ صرف وزیراعلیٰ کی جیبوں کو گرم کرنے کے لیے رکھا گیا تھا؟ حسن ایوب نے سوال اُٹھایا کہ کیا اس فنڈ کا آڈٹ کیا جائے اور وزیر اعلیٰ اس فنڈ کی تفصیلات عوام کے سامنے لائیں۔
حسن ایوب نے وزیر اعلیٰ کے بارے میں مزید کہا کہ سہیل آفریدی کی سیلف پروجیکشن اور میڈیا کوریج کے حوالے سے بھی کئی سوالات ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے یہ سوال کیا کہ کیا وہ ویڈیوز بنوانے والے کیمرہ مینوں کو بغیر کسی معاوضے کے کام کرنے کا کہہ رہے ہیں یا ان کا کوئی خاص پیکیج ہے؟
حسن ایوب نے وزیر اعلیٰ کو اخلاقی جرات دکھانے کی دعوت دی اور کہا کہ اگر وہ اپنی صفائی دینا چاہتے ہیں تو کھل کر اپنے الزامات اور میڈیا چینلز کا نام لیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ ایسا نہیں کر سکتے تو شاید یہ پھر جن کالے چینلز کی بات کررہے ہیں یہ درحقیقت ان کا اپنا سیاہ چہرہ ہے جو ان کے کاموں کی وجہ سے سیاہ ہوچکا ہے۔