پاکستان کی چین کی سرمایہ جاتی منڈی میں تاریخی انٹری، پہلا پانڈا بانڈ کامیابی سے جاری

پاکستان کی چین کی سرمایہ جاتی منڈی میں تاریخی انٹری، پہلا پانڈا بانڈ کامیابی سے جاری

مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے چین کی سرمایہ مارکیٹ میں اپنا پہلا “پانڈا بانڈ” کامیابی سے جاری کر دیا ہے، جو ملکی مالیاتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک ارب75 کروڑ یوآن مالیت کے بانڈز جاری کیے، جبکہ اس کے مقابلے میں8 ارب 80 کروڑ یوآن کی پیشکشیں موصول ہوئیں، انہوں نے کہا کہ پانڈا بانڈ کے لیے پاکستان کو پانچ گنا زیادہ طلب کا سامنا رہا، جو عالمی سرمایہ کاروں کے بھرپور اعتماد کا واضح اظہار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو صرف دو اعشاریہ پانچ فیصد کی پُرکشش شرح سود پر پانڈا بانڈ کی پیشکش ملی، جو عالمی مالیاتی منڈی میں پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی اشاریوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کی معاشی اصلاحات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان اب استحکام سے ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے اور ملک میں ایک نئے معاشی باب کا آغاز ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پانڈا بانڈ کے اجراء کی تاریخ پھر بار تبدیل،نئی تاریخ کیا ہوگی،تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستان پہلی مرتبہ پانڈا بانڈ کے ذریعے چین کی مقامی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی حاصل کر رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اور گہری سرمایہ جاتی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے، یہ پیش رفت پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔

پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان کی مالیاتی حکمتِ عملی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ملک اپنے مالی وسائل کے ذرائع کو متنوع بنانے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں اپنی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان اب روایتی مالیاتی ذرائع پر انحصار کم کرتے ہوئے مارکیٹ بیسڈ فنانسنگ کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، پانڈا بانڈ کے ذریعے چین کی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی کو پاکستان کی معاشی بحالی اور عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

پانڈا بانڈ پروگرام کا مجموعی حجم ایک ارب امریکی ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ابتدائی اجرا ڈھائی سو ملین امریکی ڈالر کے مساوی ہوگا، اس اجرا کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی معاونت بھی حاصل ہے، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles