امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر ایک بار پھر دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو کے پاس اب صرف دو ہی آپشن ہیں “ہاں” یا “ناں” امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نیٹو کے ساتھ کھڑا رہتا ہے مگر جب امریکا کو ضرورت ہوتی ہے تو نیٹو ہمیشہ اسی طرح ساتھ نہیں دیتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر گرین لینڈ کے معاملے پر “ہاں” کہا گیا تو خوشی ہوگی، لیکن اگر “ناں” کہا گیا تو امریکا اسے یاد رکھے گا، انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے گرین لینڈ حاصل کرنے سے نیٹو کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔
عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ گرین لینڈ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ ایک اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے اور روس و چین بھی اس کے قریب ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کے مسئلے پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے ہم گرین لینڈ کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کریں گے،ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کا مؤثر دفاع امریکا کے سوا کوئی اور ملک نہیں کر سکتا اور قومی دفاعی حکمت عملی کے لیے امریکا کو ڈنمارک کے تعاون کی ضرورت ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو رکوایا اور اب تک آٹھ جنگیں ختم کرانے میں کردار ادا کیا،ان کا کہنا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد گرین لینڈ کو خالی نہیں کرنا چاہیے تھا اور آج بھی امریکا اس کے بغیر اپنی سلامتی یقینی نہیں بنا سکتا۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ صرف تین ماہ میں امریکا میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر ڈیڑھ فیصد رہ گئی ہے، ان کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر تھی اور ڈیموکریٹس نے امریکا کو ایک کمزور ملک بنا دیا تھا، جبکہ موجودہ ٹیرف پالیسیوں کے باعث اب تک تقریباً 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری امریکا میں آ چکی ہے۔
انہوں نے یورپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ درست سمت میں نہیں جا رہا اور اسے گرین انرجی اور امیگریشن جیسے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی،ٹرمپ کے مطابق جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ تاریخی معاہدے کیے گئے ہیں جبکہ وینزویلا سے 50 ملین بیرل تیل حاصل کیا جا چکا ہے اور وہاں کی قیادت کے ساتھ تعلقات مضبوط ہیں۔انہوں نے پاک بھارت جنگ کا زکر بھی کیا اور کہا کے میں نے آٹھ جنگیں رکوائیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نئے ایٹمی ری ایکٹرز تعمیر کرنے جا رہا ہے، دنیا کے ساتھ ایک معاشی حب بن چکا ہے اور یورپ کے عوام کے بارے میں امریکا گہری فکر رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی ملک کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتے، مگر امریکا اب اپنے مفادات کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔