بابر اعظم کی بیگ بیش سے واپسی ،نئی بحث چھڑ گئی

بابر اعظم کی بیگ بیش سے واپسی ،نئی بحث چھڑ گئی

دنیا کرکٹ کے عظیم بلے باز بابر اعظم کی بگ بیش لیگ کے بقیہ میچز کھیلے بغیر وطن واپسی نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ شائقین کرکٹ دو واضح آراء میں منقسم دکھائی دیتے ہیں۔

بعض مداحوں کا مؤقف ہے کہ بابر اعظم جیسے عالمی معیار کے بیٹر کے ساتھ ٹیم کے اندر وہ احترام اور اہمیت نہیں دی گئی جو ان کا حق بنتی تھی۔ ان کے مطابق بابر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے صفِ اوّل کے بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں، اس کے باوجود انہیں ٹیم میں وہ مرکزی کردار حاصل نہ ہو سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

اس بحث کی جڑیں ایک میچ کے اس واقعے سے بھی جا ملتی ہیں جس میں بابر اعظم اور آسٹریلوی اسٹار اسٹیو اسمتھ کے درمیان رنز نہ لینے پر ایک لمحاتی تنازعہ سامنے آیا۔ میچ کے ایک اہم موقع پر اسٹیو اسمتھ نے بابر اعظم کو سنگل لینے سے روکا تاکہ وہ خود اسٹرائیک پر رہ سکیں۔ اس فیصلے پر بابر اعظم واضح طور پر ناخوش نظر آئے اور انہوں نے گیند پر بیٹ مار کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں :بابر اعظم کا بگ بیش لیگ کا سفر اچانک ختم! وجہ کیا بنی؟

مزید برآں، میچ کے بعد بابر اعظم کا پوسٹ میچ ہینڈ شیک میں شامل نہ ہونا بھی شائقین اور مبصرین کی توجہ کا مرکز بنا، جس کے بعد یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ شاید بابر اعظم اور ٹیم مینجمنٹ کے درمیان کوئی اندرونی اختلافات موجود ہیں۔

اب بگ بیش لیگ کے بقیہ میچز کھیلے بغیر بابر اعظم کی واپسی نے ان خدشات کو مزید تقویت دے دی ہے اور یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا یہ فیصلہ واقعی صرف نیشنل ڈیوٹی کی بنیاد پر تھا یا اس کے پسِ پردہ کچھ اور عوامل بھی کارفرما تھے۔

واضح رہے کہ بابر اعظم خود اپنے ویڈیو پیغام میں یہ وضاحت دے چکے ہیں کہ انہیں قومی ذمہ داریوں کے باعث ٹیم چھوڑنا پڑی اور وہ بگ بیش لیگ سے اچھی یادیں لے کر واپس جا رہے ہیں۔ اسی طرح ٹیم انتظامیہ کی جانب سے بھی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ بابر اعظم کو پاکستان ٹیم کے کیمپ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

اس کے باوجود شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں یہ بحث بدستور جاری ہے کہ کیا بابر اعظم کو بگ بیش لیگ میں وہ عزت، اعتماد اور کردار دیا گیا جس کے وہ حقدار تھے، یا پھر یہ معاملہ محض حالات کا نتیجہ تھا۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے مزید پہلو سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *