صورتحال بدل چکی ، امریکا کو تجارت کے حوالے سے حقائق تسلیم کرنا ہونگے ، باقرقالیباف

صورتحال بدل چکی ، امریکا کو تجارت کے حوالے سے حقائق تسلیم کرنا ہونگے ، باقرقالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد خطے کی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور اب امریکا کو تجارت اور علاقائی تعاون کے حوالے سے موجودہ حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ازبکستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کے دوران محمد باقر قالیباف نے کہا کہ جنگ کے بعد حالات ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوئے ہیں اور حالیہ پیش رفت نے امریکا کو نئے حقائق قبول کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بدلتے ہوئے حالات نئے اقتصادی اور تجارتی مواقع پیدا کر رہے ہیں جن سے متعلقہ ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ماحول میں ایران اور ازبکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے، امید ہے کہ مستقبل میں پابندیاں اٹھانے کے لیے بھی سازگار بنیاد تیار ہو جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں مزید پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا دعوی مسترد ، امریکہ صرف بے بنیاد باتیں برآمد کرنا جانتا ہے، قالیباف

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران اور عمان کے مشترکہ انتظام اور خطے میں امریکی سرگرمیوں میں کمی کے باعث ٹرانزٹ تعاون کو فروغ دینے کے لیے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ علاقائی ممالک باہمی تعاون کو فروغ دے کر تجارت، نقل و حمل اور اقتصادی روابط کو مزید مستحکم بنا سکتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران عوامی حقوق اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے، باقر قالیباف

ایرانی اسپیکر نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعاون میں اضافے سے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ ٹرانزٹ، سرمایہ کاری اور باہمی اقتصادی منصوبوں کے لیے بھی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ مستقبل میں خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال اقتصادی تعاون کے مزید مواقع فراہم کرے گی اور پابندیوں میں نرمی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles