لڑکیوں کے موبائل ڈیٹا نے رضا ڈار کیس کا رخ بدل دیا، منصور علی خان کا تہلکہ خیز انکشافات

لڑکیوں کے موبائل ڈیٹا نے رضا ڈار کیس کا رخ بدل دیا، منصور علی خان کا تہلکہ خیز انکشافات

لاہور کے پوش علاقے میں مبینہ اغوا اور زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں اس وقت ایک انتہائی سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے جب معروف وی لاگر اور سینیئر تجزیہ کار منصورعلی خان نے کیس کے پوشیدہ حقائق سے پردہ اٹھایا۔

منصور علی خان کے مطابق حاصل شدہ معلومات کے مطابق لڑکیوں کی جانب سے لگائے گئے ریپ کے سنگین الزامات ابتدائی تفتیش اور تکنیکی شواہد کی روشنی میں بے بنیاد معلوم ہوتے ہیں اور یہ پورا معاملہ دراصل لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور مالی لین دین کے تنازع کا نکلا ہے۔

ڈار فیملی کا پولیس سے مثالی تعاون اور گرفتاری

سینیئر تجزیہ کار منصور علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ جب پولیس نے ابتدائی طور پر ڈار فیملی سے رابطہ کیا تو مرکزی ملزم رضا ڈار کے تمام موبائل نمبرز بند جا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:’ڈکی بھائی‘ کیس میں نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسران کا کروڑوں روپے رشوت لینے کا انکشاف

تاہم بعد میں ایک فعال نمبر کا سراغ ملا جس پر خود ڈار فیملی نے رابطہ قائم کیا۔ قانون کا احترام کرتے ہوئے، ڈار فیملی نے خود رضا ڈار کی خفیہ لوکیشن پولیس کو فراہم کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا کہ وہ ملزم کو گرفتار کر کے تمام قانونی کارروائی مکمل کریں۔

اسی تعاون کے نتیجے میں پولیس نے رضا ڈار کو ڈیفنس کے علاقے سے حراست میں لیا، جبکہ دوسری طرف دونوں لڑکیاں ایئرپورٹ کے قریبی علاقے سے بازیاب ہوئیں۔

موبائل ڈیٹا ریکوری اور 5 لاکھ ڈالر کی انوسٹمنٹ کا انکشاف

کیس میں سب سے اہم پیشرفت اس وقت ہوئی جب پولیس نے لڑکیوں کے موبائل فونز کو قبضے میں لے کر ان کا ڈیٹا ریکور کیا۔

رضا ڈار کے مؤقف اور لڑکیوں کے موبائل سے ملنے والے ڈیجیٹل شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ معاملہ کسی جرم سے زیادہ مالیاتی امور سے جڑا ہوا تھا۔

منصور علی خان کے مطابق، موبائل ڈیٹا سے 5 لاکھ ڈالر (نصف ملین ڈالر) کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ یہ لڑکیاں دیگر خواتین اور لوگوں سے بھاری رقم لے کر سرمایہ کاری کا کوئی کاروبار کرتی تھیں اور انہیں منافع واپس فراہم کرتی تھیں، جس میں بعد میں کوئی بڑا تنازع کھڑا ہو گیا۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا اور میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ لاہور کے ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوان رضا ڈار نے لڑکیوں کو اغوا کر کے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

مزید پڑھیں:لاہورمیں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی، 41 کروڑ تاوان اور کرپٹو تنازع کی حیران کن کہانی

اس خبر کے سامنے آتے ہی انٹرنیٹ پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور ملزم سمیت اس کے خاندان کی کردار کشی کی مہم شروع ہو گئی۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کیا تو سچائی یکسر مختلف نکلی۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد کاروباری تنازعات کو سنگین جرائم کا رنگ دے کر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، اور اس کیس کا پس منظر بھی اب اسی نوعیت کا دکھائی دے رہا ہے جہاں بھاری رقم کے لین دین کے بعد معاملات بگڑ گئے۔

رضا ڈار کیس میں سامنے آنے والے نئے حقائق اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں کسی بھی معاملے کی مکمل تحقیق کے بغیر یکطرفہ رائے قائم کرنا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

لڑکیوں کے موبائل سے 5 لاکھ ڈالر کی انوسٹمنٹ کے ثبوت ملنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ایک باقاعدہ کاروباری تنازع تھا جسے مبینہ طور پر دباؤ بڑھانے کے لیے ریپ جیسے سنگین الزام میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

Related Articles