ایران عوامی حقوق اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے، باقر قالیباف

ایران عوامی حقوق اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے، باقر قالیباف

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ سطحی مذاکراتی عمل سے وابستہ رہنما محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران اپنی قومی خودمختاری، عوامی حقوق اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے امریکا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نہ تو حقیقی جنگ بندی میں دلچسپی رکھتا ہے اور نہ ہی ایسے مذاکرات کے لیے سنجیدہ نظر آتا ہے جو کسی مثبت اور دیرپا نتیجے تک پہنچ سکیں۔

ٹیلیگرام پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران صرف دعو ئوں، نعروں یا زبانی یقین دہانیوں پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ دانشمندانہ حکمت عملی، منصوبہ بندی اور قومی اقدار کی بنیاد پر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ملک کو اپنے عوام اور سرزمین کے دفاع کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی، سفارتی، عوامی اور خدماتی شعبے ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں اس لیے کسی ایک محاذ کو نظر انداز کرکے کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

 یہ بھی پڑھیں :کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور عبرتناک جواب دیں گے،سپیکر ایرانی پارلیمنٹ

باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران کی پالیسی صرف جنگ یا صرف مذاکرات پر مبنی نہیں ہوگی بلکہ حالات کے مطابق دونوں راستوں کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے وقت اور اپنی شرائط کے مطابق فیصلے کرے گا، جبکہ بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن و سلامتی کا قیام ہے۔

انہوں نے لبنان کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض مواقع پر سفارتی دباؤ اور بعض مواقع پر عسکری اقدامات نے مخالف فریق کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران پر بڑھتے ہوئے بحری دباؤ اور ناکہ بندی کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور انہیں ناکام بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ سطحی مذاکراتی عمل سے وابستہ رہنما محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران اپنی قومی خودمختاری، عوامی حقوق اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے امریکا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نہ تو حقیقی جنگ بندی میں دلچسپی رکھتا ہے اور نہ ہی ایسے مذاکرات کے لیے سنجیدہ نظر آتا ہے جو کسی مثبت اور دیرپا نتیجے تک پہنچ سکیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا ملک نہیں، ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے، محمد باقر قالیباف 

ٹیلیگرام پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران صرف دعو ئوں، نعروں یا زبانی یقین دہانیوں پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ دانشمندانہ حکمت عملی، منصوبہ بندی اور قومی اقدار کی بنیاد پر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ملک کو اپنے عوام اور سرزمین کے دفاع کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی، سفارتی، عوامی اور خدماتی شعبے ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں اس لیے کسی ایک محاذ کو نظر انداز کرکے کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران کی پالیسی صرف جنگ یا صرف مذاکرات پر مبنی نہیں ہوگی بلکہ حالات کے مطابق دونوں راستوں کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے وقت اور اپنی شرائط کے مطابق فیصلے کرے گا، جبکہ بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن و سلامتی کا قیام ہے۔

انہوں نے لبنان کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض مواقع پر سفارتی دباؤ اور بعض مواقع پر عسکری اقدامات نے مخالف فریق کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران پر بڑھتے ہوئے بحری دباؤ اور ناکہ بندی کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور انہیں ناکام بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

editor

Related Articles