آرٹس مضامین کے ساتھ میٹرک پاس طلبا کی بڑی مشکل آسان

آرٹس مضامین کے ساتھ میٹرک پاس طلبا کی بڑی مشکل آسان

ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ (ڈی اے ای) کے داخلہ قوانین میں ایک اہم اور دور رس تبدیلی کر دی گئی ہے جس کے بعد اب آرٹس مضامین کے ساتھ میٹرک پاس طلبہ بھی ڈی اے ای میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے۔

اس فیصلے کو فنی تعلیم کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے
یہ فیصلہ پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا جو وزیر صنعت و تجارت پنجاب چوہدری شافع حسین کی زیر صدارت پنجاب اسکل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں بورڈ کے چھ نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ پچھلے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا اس دوران فنی تعلیم اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق متعدد اہم اقدامات کی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں :پنجاب،بورڈ امتحانات سے متعلق وزیر تعلیم نے بڑا اعلان کردیا

اجلاس میں ایک اہم فیصلہ ریٹائرڈ ملازمین کے فیملی پنشنرز کے لیے کیا گیا، جنہیں کورنگ پنشن پر 50 فیصد میڈیکل الاؤنس دینے کی منظوری دی گئی۔
اس اقدام کو ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ بورڈ کے فنڈز کو زیادہ منافع والی اسکیموں میں ری انویسٹ کرنے کی بھی منظوری دی گئی، تاکہ ادارے کے مالی وسائل کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے۔

اجلاس کا سب سے نمایاں فیصلہ ڈی اے ای ڈپلومہ کے داخلہ قوانین میں ترمیم تھا  جس کے تحت اب آرٹس مضامین کے ساتھ میٹرک کرنے والے طلبہ بھی فنی تعلیم کے اس اہم پروگرام میں داخلہ لے سکیں گے  اس فیصلے سے ایسے ہزاروں طلبہ کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جو سائنسی مضامین نہ ہونے کی وجہ سے فنی تعلیم سے محروم رہ جاتے تھے۔

وزیر صنعت و تجارت پنجاب چوہدری شافع حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیاری فنی اور ہنر مند تعلیم نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ہنرمند افرادی قوت کو انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ انڈسٹریل اسٹیٹس میں طلبہ کے لیے انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے اور امتحانی مراکز کی آن لائن مانیٹرنگ کی بھی منظوری دی گئی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *