امریکا اس وقت شدید ترین برفانی طوفان کی زد میں ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ ہفتے کے روز سے اب تک اندرون و بیرونِ ملک آنے جانے والی 19 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
خطرناک موسمی حالات کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو چکے ہیں اور حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برفانی طوفان ٹیکساس سے لے کر نیوانگلینڈ تک وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، جہاں شدید برف باری، ژالہ باری اور موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک کم ہو سکتا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے بتایا کہ اتوار کے روز شہر میں پانچ افراد کھلے آسمان تلے مردہ پائے گئے، جن کی اموات ممکنہ طور پر شدید سردی اور ہائپوتھرمیا کے باعث ہوئیں۔
دوسری جانب ریاست ٹیکساس میں حکام نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ لوویزیانا میں دو افراد سردی کی شدت برداشت نہ کر سکنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اسی طرح ریاست آئیووا کے جنوب مشرقی علاقے میں خراب موسم کے باعث پیش آنیوالے ایک ٹریفک حادثے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق شدید برفانی طوفان کے باعث پیر تک 8 لاکھ 20 ہزار سے زائد صارفین بجلی سے محروم رہے، جن میں اکثریت جنوبی ریاستوں کے مکینوں کی ہے جہاں طوفان نے ہفتے کے روز سب سے زیادہ تباہی مچائی۔
بجلی کی بندش کے باعث گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر سرد علاقوں میں ہیٹنگ سسٹمز متاثر ہونے سے صورتحال خطرناک ہو گئی ہے۔
ٹیکساس سے نارتھ کیرولائنا اور نیویارک تک مختلف ریاستوں کے حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ غیر ضروری باہر نکلنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ سڑکوں پر پھسلن، حدِ نگاہ میں کمی اور شدید سردی کے باعث ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
طوفان کی شدت کو دیکھتے ہوئے کم از کم 20 امریکی ریاستوں اور وفاقی دارالحکومت واشنگٹن میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہےاس کے ساتھ ہی واشنگٹن، فلاڈیلفیا اور نیویارک کے بڑے ہوائی اڈوں پر تقریباً تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں،فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق ہفتے سے اب تک 19 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جس کے باعث لاکھوں مسافر ہوائی اڈوں پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔