نیوزی لینڈ جانے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کیلئے بڑی خوشخبری

نیوزی لینڈ جانے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کیلئے بڑی خوشخبری

نیوزی لینڈ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ایک اہم اور پرکشش موقع فراہم کرتے ہوئے پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کر دی ہیں، جس سے پاکستانی طلبہ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس اقدام کو بیرون ملک تعلیم مکمل کرنے والے نوجوانوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف پیشہ ورانہ تجربہ حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقل رہائش کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

اسلام آباد میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستانی طلبہ بھی اس ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ انہوں نے حال ہی میں نیوزی لینڈ کے کسی منظور شدہ تعلیمی ادارے سے ڈگری یا کورس مکمل کیا ہو۔ اس ویزا کے تحت امیدواروں کو تین سال تک نیوزی لینڈ میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں : کینیڈا کا پاکستان سے اسٹڈی ویزا ایپلیکیشنز بارے اہم فیصلہ

اس ویزا کے ذریعے مستقل رہائش یعنی ریذیڈنٹ ویزا حاصل کرنے کا راستہ بھی کھل سکتا ہے، جو طلبہ کے لیے ایک بڑا موقع تصور کیا جا رہا ہے۔ درخواست دینے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ امیدوار نے اپنی تعلیم مکمل کر لی ہو اور مقررہ مدت کے اندر درخواست جمع کروائی جائے۔

قواعد کے مطابق عام طور پر اسٹوڈنٹ ویزا ختم ہونے کے تین ماہ کے اندر درخواست دینا ضروری ہوتا ہے، جبکہ پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کے لیے یہ مدت چھ ماہ تک بڑھائی گئی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی طالب علم اپنی پہلی اہل ڈگری کے بعد مختصر دورانیے کی مزید تعلیم حاصل کرے تو اسے بارہ ماہ تک درخواست دینے کی سہولت دی جا سکتی ہے۔

 یہ بھی پڑھی :نیوزی لینڈ کا گولڈن ویزا حاصل کریں، خرچہ اور طریقہ کار سامنے آگیا

درخواست دہندہ کے پاس نیوزی لینڈ میں ابتدائی رہائش اور اخراجات کے لیے کم از کم پانچ ہزار نیوزی لینڈ ڈالر ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے قیام کے دوران مالی طور پر مستحکم رہ سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *