متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں اپنا علاقہ، فضائی حدود یا سمندری راستے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق یو اے ای اپنی سرزمین یا وسائل کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے فراہم نہیں کرے گا، چاہے وہ زمینی، فضائی یا بحری ہو۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی جارحیت کے لیے کسی قسم کی لاجسٹک معاونت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہ اعلان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جس میں یو اے ای نے بین الاقوامی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کی اپنی مستقل پوزیشن کو اجاگر کیا ہے۔
اماراتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی اور خطائی بحرانوں کے حل کے لیے بات چیت اور کشیدگی میں کمی کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ وزارت نے زور دیا کہ تنازعات کو فوجی یا عسکری اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی بجائے سفارتی اور مذاکراتی ذرائع کو ترجیح دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں :متحدہ عرب امارات کی اسلام آباد ائیرپورٹ میں سرمایہ کاری سے متعلق اہم وضاحت
یو اے ای کی یہ پوزیشن اس بات کی عکاس ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے سفارتی راہوں کو فروغ دینے میں یقین رکھتا ہے اور خطے میں کسی بھی غیر ضروری تنازعے سے گریز کرتا ہے۔
وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون اور مشترکہ ذمہ داریوں کے تحت خطے میں امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے یو اے ای پر عزم ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کا یہ مؤقف ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ اس اعلان کے ذریعے یو اے ای نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کی جارحیت میں شریک نہیں ہوگا ۔
UAE Reaffirms Commitment to Not Allowing Its Airspace, Territory or Waters to Be Used in Any Military Actions Against Iranhttps://t.co/L6vF1aRogU pic.twitter.com/JLgTy2TYI2
— MoFA وزارة الخارجية (@mofauae) January 26, 2026

