انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) ٹی 20 ورلڈ کپ میں آخری لمحات میں شرکت کا موقع ملنے پر کرکٹ اسکاٹ لینڈ کے چیف ایگزیکٹو ٹروڈی لینڈبلیڈ نے بنگلہ دیش کی ٹیم سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صورتحال اسکاٹ لینڈ کے لیے بھی غیرمعمولی اور غیرمتوقع ہے۔
ٹروڈی لینڈبلیڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم اپنی ٹیم کو سات فروری کو ہونے والے افتتاحی میچ کے لیے تیار کرنے پر شب و روز کام کر رہے ہیں، تاہم ہم واقعی بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں، ظاہر ہے یہ وہ طریقہ نہیں جس کے ذریعے ہم ورلڈ کپ کھیلنا چاہتے تھے‘۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی عالمی ایونٹ میں شرکت کے لیے ایک باقاعدہ اور شفاف طریقہ کار ہوتا ہے اور کوئی بھی ٹیم اس انداز میں دعوت پا کر ایونٹ میں شامل ہونا پسند نہیں کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے لیے غیرمعمولی حالات ہیں، ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ بنگلہ دیشی کھلاڑی اس صورتحال میں کس ذہنی دباؤ سے گزر رہے ہوں گے‘۔
ورلڈ کپ میں رسائی کا ایک اصولی طریقہ ہوتا ہے
کرکٹ اسکاٹ لینڈ کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر لوگوں کی مختلف آرا ہو سکتی ہیں اور ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا حق بھی حاصل ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کو ورلڈ کپ میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جسے قبول کرنا ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم اور انتظامیہ کی تمام تر توجہ اب ورلڈ کپ کی تیاریوں پر مرکوز ہے اور کھلاڑی اس موقع کو بہترین کارکردگی میں ڈھالنے کیلئے پرعزم ہیں۔
کوالیفائی نہ کرنے کے باوجود ورلڈ کپ میں شمولیت
واضح رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں منعقد ہونے والے یورپ ریجنل فائنل میں اٹلی اور جرسی کے خلاف شکستوں کے باعث اسکاٹ لینڈ براہِ راست ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا تھا۔ تاہم بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ کشیدہ حالات کے تناظر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد اسکاٹ لینڈ کو بنگلہ دیش کی جگہ ورلڈ کپ میں شامل کر لیا گیا۔
اس غیرمتوقع پیش رفت نے کرکٹ حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے، جبکہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کے لیے یہ ایک بڑا موقع بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ شمولیت غیرمعمولی حالات کا نتیجہ ہے، لیکن اسکاٹ لینڈ کے لیے یہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہے۔