مشرقی وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑےکی تعیناتی کے بعد ایران ہم سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

مشرقی وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑےکی تعیناتی کے بعد ایران ہم سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ صورتحال اس وقت غیر یقینی ہے کیونکہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑی فورس تعینات کر دی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کا بحری بیڑہ ایران کے قریب موجود ہے جو وینزویلا میں استعمال ہونے والی فوجی قوت سے بھی بڑا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم کی جانب سے پیش کیے گئے ممکنہ آپشنز پر بات کرنے سے گریز کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ سفارتکاری اب بھی ایک آپشن ہے۔ ایران کئی بار رابطہ کر چکا ہے اور مشرقی وسطیٰ میں فوجی تعیناتی کے بعد ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئےکہاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے وائٹ ہاؤس اب بھی تیار ہے۔ عہدیدار کے مطابق اگر ایران رابطہ کرتا ہے اور طے شدہ شرائط کو تسلیم کرتا ہے تو امریکا بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔

امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا اپنی شرائط کئی بار ایران کو پہنچا چکا ہے۔

مزید پڑھیں:صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کی حقیقت بتادی

یاد رہے کہ ائیرکرافٹ کیریئر ابر اہم لنکن سمیت دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق اس بحری بیڑے کے پہنچنے سے خطے میں امریکا کی عسکری قوت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

editor

Related Articles