امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے اثرات صرف میدانِ سیاست اور سلامتی تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے گہرے معاشی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
امریکی میڈیاکے مطابق اس تنازع نے امریکا بھر میں رہنے والے عام شہریوں کے روزمرہ اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کروڑوں خاندان مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
معاشی اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا براہِ راست اثر ایندھن کی لاگت اور سفری اخراجات پر پڑا ہے،اس صورتحال کے باعث امریکی صارفین کو گزشتہ چند ماہ کے دوران مجموعی طور پر تقریباً ساٹھ ارب ڈالر کے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
معاشی تجزیاتی ادارے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ہر امریکی صارف کے ایندھن پر اوسط اضافی اخراجات تقریباً چار سو سینتالیس ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فضائی سفر کے کرایوں میں بھی نمایاں بڑھوتری ہوئی، جس نے گھریلو بجٹ کو مزید متاثر کیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی بے یقینی نے قیمتوں کو اوپر دھکیلا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث سرمایہ کاروں اور تجارتی اداروں میں تشویش پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں تیل اور دیگر توانائی ذرائع کی فراہمی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے، یہی عوامل قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
ادارے کے سربراہ ماہرِ معاشیات مارک زینڈی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل مدت تک جاری رہی تو امریکی شہریوں کے لیے مالی مشکلات مزید سنگین ہو سکتی ہیں۔
ان کاکہناتھا کہ پہلے ہی مہنگائی اور معاشی سست روی کے دباؤ کا شکار خاندانوں کو اپنے اخراجات محدود کرنا پڑیں گے، جس سے مجموعی معاشی سرگرمی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر توانائی کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہیں تو جنگ کے ایک سال مکمل ہونے تک ایک اوسط امریکی گھرانے کو تقریباً دو ہزار ڈالر تک اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنگ کے معاشی نتائج میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک پھیل چکے ہیں اور توانائی کی منڈی میں پیدا ہونے والی بے چینی نے عام شہریوں کی زندگی کو براہِ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔