متحدہ عرب امارات کی کم لاگت کی ایئرلائن نے ’آپریشنل وجوہات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت لاہور اور پشاور کے لیے اپنی تمام پروازیں 26 اکتوبر 2026 تک معطل کر دی ہیں۔
ایئرلائن انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، تاہم کراچی، سیالکوٹ، ملتان، فیصل آباد اور کوئٹہ کے لیے پروازوں کا سلسلہ حسبِ معمول جاری رہے گا۔
دبئی کی ’بجٹ ایئر لائنز‘ میں ایئر عربیہ، فلائی دبئی، وز ایئر ابودبئی، ایئر عربیہ ابو دبئی شامل ہیں، جو بجٹ ایئر لائنز کے زمرے میں آتی ہیں۔
اماراتی حکام نے متاثرہ مسافروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جن افراد نے پہلے سے ٹکٹ بک کروا رکھے تھے، انہیں مکمل رقم واپس (ریفنڈ) کی جائے گی یا پھر انہیں متبادل ایئرلائنز پر ری بکنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم نیٹ ورک کی تنظیمِ نو اور موجودہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی دیگر ایئرلائنز کا پاکستان کے لیے فضائی آپریشن متاثر نہیں ہوا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع اور اس کے نتیجے میں ہونے والی فضائی حدود کی بندش نے خلیجی ممالک کی ایئرلائنز کے لیے ایندھن کے اخراجات اور پرواز کے دورانیے میں اضافہ کر دیا ہے۔
دبئی ایئرپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے مہینے میں مسافروں کی آمد و رفت میں 66 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو فضائی صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
بعض تکنیکی وجوہات اور طیاروں کی دستیابی کے مسائل کے باعث ایئرلائنز اپنے روٹس کو کم منافع بخش علاقوں سے ہٹا کر زیادہ منافع بخش روٹس پر منتقل کر رہی ہیں۔
فضائی صنعت پر اثرات
ایئرلائن کے اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اسلام آباد، لاہور اور پشاور جیسے مصروف روٹس پر ایک بڑی ایئرلائن کے نکل جانے سے مسابقتی فضا کم ہوگی، جس کے نتیجے میں دیگر ایئرلائنز اپنے کرایوں میں 15 سے 25 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہیں۔
ان تینوں شہروں سے دبئی جانے والے مسافروں کی ایک بڑی تعداد محنت کش طبقے پر مشتمل ہے جو کم قیمت ایئرلائنز پر انحصار کرتے ہیں۔ معطلی سے ان کے سفری اخراجات کا بجٹ متاثر ہوگا۔
اکتوبر 2026 تک طویل معطلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایئرلائن انتظامیہ کو مستقبل قریب میں خطے کے حالات میں فوری بہتری کی توقع نہیں ہے یا وہ اپنے بیڑے کی بڑی سطح پر مرمت و بحالی کا ارادہ رکھتی ہے۔