عالمی سمندری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور رکاوٹوں کے باوجود قطر سے ایل این جی لے کر آنے والا دوسرا بحری جہاز بحفاظت کراچی پہنچ گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ جہاز اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا کہ اسے آبنائے ہرمز میں عارضی طور پر روک لیا گیا تھا، تاہم صورتحال واضح ہونے کے بعد جہاز نے دوبارہ سفر شروع کیا اور اب کامیابی سے پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہو چکا ہے۔
ایران جنگ کے سائے، 3 ممالک سے گیس کی آمد
خطے میں جاری ایران جنگ کی صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، لیکن پاکستان کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ اس کشیدگی کے آغاز کے بعد اب تک 3 بڑے ایل این جی جہاز کراچی پہنچ چکے ہیں۔
پہلا جہاز امریکا سے روانہ ہو کر کراچی پہنچا، دوسرا جہاز متحدہ عرب امارات سے ایندھن لے کر پورٹ قاسم پہنچا، تیسرا جہاز قطر سے آنے والا حالیہ جہاز جس نے آبنائے ہرمز کا مشکل راستہ عبور کیا۔
ان جہازوں کی آمد سے ملک میں گیس کی طلب اور رسد کے فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سپلائی لائنز دباؤ کا شکار ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور خطرات
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر تجارت ہونے والے تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ ایران اور دیگر قوتوں کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے باعث اس علاقے میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔
ماضی میں بھی جنگی حالات کے دوران اس راستے کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ پاکستان اپنی ایل این جی کی ضروریات کا بڑا حصہ قطر سے پورا کرتا ہے، اس لیے اس راستے کا محفوظ ہونا پاکستان کی معیشت کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
توانائی کی حفاظت اور جغرافیائی سیاست
موجودہ حالات میں ایل این جی جہازوں کا کراچی پہنچنا پاکستان کی ’انرجی ڈپلومیسی‘ کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکا، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے مختلف ممالک سے گیس کا آنا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے کسی ایک ذریعے پر انحصار نہیں کر رہا، جو کہ سٹریٹجک لحاظ سے بہترین حکمت عملی ہے۔
جنگ کے باوجود سپلائی لائنز کا بحال رہنا مقامی صنعتوں اور بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ جہاز رک جاتے تو ملک میں توانائی کا بڑا بحران جنم لے سکتا تھا۔
اگرچہ جہاز پہنچ رہے ہیں، لیکن جنگ زدہ علاقوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کا انشورنس پریمیم بڑھ جاتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر پاکستانی صارفین پر پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔