حکومت نے بجٹ سازی کی اہم ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو سونپ دی ہے۔ ان کی سربراہی میں قائم ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی ٹیکس تجاویز اور بجٹ سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔ نئے بجٹ میں 400 ارب روپے سے زیادہ کے اضافی ٹیکس اقدامات تجویز کیے جا رہے ہیں تاکہ مالیاتی اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف کے سخت مطالبات اور تحفظات
میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے 683 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے نے واضح کیا ہے کہ مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے ’نیشنل فسکل پیکٹ‘ پر عمل درآمد میں اب کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
زرعی ٹیکس
آئی ایم ایف نے چاروں صوبوں کو زرعی آمدن پر مکمل ٹیکس وصولی کا پابند بنانے پر زور دیا ہے۔
پیٹرولیم لیوی
عالمی ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں کا بوجھ براہِ راست صارفین پر منتقل کیا جائے۔ رواں سال 1330 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی وصول کی جا چکی ہے، جبکہ ہدف 1468 ارب روپے ہے۔
سماجی شعبہ
آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ صحت اور تعلیم پر جی ڈی پی کا کم از کم 3 فیصد خرچ کیا جائے۔
معاشی اہداف پر نظرِ ثانی
بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ رواں سال معاشی شرح نمو کا 4.2 فیصد کا ہدف پورا ہونا ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح 13989 ارب روپے کا نظرِ ثانی شدہ ٹیکس ہدف حاصل کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حکومت نے اب ٹیکس ریونیو سمیت دیگر سالانہ معاشی اہداف پر دوبارہ نظرِ ثانی کی تجویز پیش کر دی ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کا تعلق
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کے پروگراموں پر انحصار کر رہا ہے۔ حالیہ مذاکرات کا مقصد ایک طویل مدتی اور بڑے قرض پروگرام کا حصول ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف نے ’سخت اصلاحات‘ کی شرط رکھی ہے۔
ماضی میں سیاسی وجوہات کی بنا پر زرعی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر ٹیکس لگانے سے گریز کیا جاتا رہا ہے، لیکن اب آئی ایم ایف نے ان شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔
کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟
موجودہ صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو آنے والا بجٹ ’عوام دوست‘ کے بجائے ’آئی ایم ایف دوست‘ ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
400 ارب روپے کے نئے ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی میں اضافے سے مہنگائی کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے۔ زرعی ٹیکس کی وصولی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے، جو کہ ایک مشکل سیاسی ٹاسک ہے۔
صحت اور تعلیم پر 3 فیصد خرچ کرنے کا مطالبہ خوش آئند ہے، لیکن دفاعی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد حکومت کے پاس ترقیاتی کاموں کے لیے گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔