حکومت کا مفت تعلیم کیلئے سکولوں کو بڑا حکم جاری

حکومت کا مفت تعلیم کیلئے سکولوں کو بڑا حکم جاری

سندھ حکومت نے صوبے بھر کے پرائیویٹ اسکولوں کے لیے ایک اہم اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اپنے کُل داخلہ شدہ طلبہ میں سے کم از کم دس فیصد بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا پابند بنا دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں واضح کیا گیا ہے کہ جو نجی اسکول اس حکم پر عمل درآمد نہیں کریں گے، ان کی رجسٹریشن
منسوخ کر دی جائے گی، حکومت کے اس فیصلے کے بعد صوبے کے متعدد پرائیویٹ اسکولوں کی رجسٹریشن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق سندھ بھر کے تمام نجی اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ پسماندہ اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے کم از کم دس فیصد طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر انتظامات کریں۔

محکمہ تعلیم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ پابندی سندھ رائٹ آف چلڈرن ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2013ء کے تحت عائد کی گئی ہے ۔

ہر نجی اسکول قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنے کُل طلبہ میں سے کم از کم دس فیصد بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرے یہ اقدام معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے بچوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مفت تعلیم کا موقع ، روس نے پاکستانی نوجوانوں کیلئے دروازے کھول دیے

نوٹیفکیشن کے مطابق نجی اسکولوں کو اس امر کے ثبوت کے طور پر زیرو فیس واؤچرز اور دیگر متعلقہ دستاویزی شواہد جمع کروانا ہوں گے، جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ اسکول میں زیر تعلیم طلبہ میں سے دس فیصد بچوں کو تعلیم مفت فراہم کی جا رہی ہے، ان شواہد کی جانچ کے بعد ہی اسکولوں کی رجسٹریشن یا رجسٹریشن کی تجدید کی جائے گی۔

محکمۂ تعلیم نے مزید واضح کیا ہے کہ کسی بھی نجی اسکول کی رجسٹریشن یا اس کی تجدید اسی صورت ممکن ہو گی جب وہ دس فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دینے کے ضابطے پر عمل درآمد سے متعلق قابلِ تصدیق رپورٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروائے گا۔

اس کے علاوہ اگر کسی ڈائریکٹر کے دائرۂ اختیار میں آنے والے علاقے میں نجی اسکول مفت تعلیم سے متعلق احکامات کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے تو متعلقہ ڈائریکٹر اسکولز کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا جائے گا اور اس کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سندھ حکومت کے اس فیصلے کو تعلیمی شعبے میں ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد غریب اور پسماندہ بچوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے جبکہ نجی اسکولوں کے لیے اس حکم پر مکمل عمل درآمد کو لازمی بنا دیا گیا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *