تیراہ میں کسی قسم کی معدنیات نہیں، صرف بھنگ کی کاشت پر مقامی آمدنی کا انحصارہے، سینئر صحافی حماد حسن

تیراہ میں کسی قسم کی  معدنیات نہیں، صرف بھنگ کی کاشت پر مقامی آمدنی کا انحصارہے، سینئر صحافی  حماد حسن

سینئر صحافی و تجزیہ کار حماد حسن نے سینئر صحافی فرخ عباس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر کے علاقے تیراہ کے مکین ہر سال شدید سردی سے بچنے کے لیے موسمی یا سیزنل نقل مکانی کرتے ہیں اور گرمیوں میں واپس اپنے علاقوں میں لوٹ آتے ہیں۔

حماد حسن نے واضح کیا کہ تیراہ میں کسی بڑے آپریشن یا معدنی وسائل کی بنیاد پر کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے بعض حصوں میں معدنیات کی معلومات موجود ہیں، لیکن تیراہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لیے ایسی کوئی ٹھوس معلومات نہیں۔ ماضی میں ایک سروے ہوا تھا جس میں علاقے کی فضا زیتون کی کاشت کے لیے سازگار قرار دی گئی تھی، مگر وہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ تیراہ میں مکئی، آلو اور لوبیا جیسی فصلیں کاشت ہوتی ہیں اور بعض مخصوص فصلیں آمدنی کا ذریعہ رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیراہ کے لوگ صرف ایک مخصوص قسم کی بھنگ کی کاشت پر انحصار کرتے ہیں، جو چرس میں استعمال ہوتی تھی اور یہی مقامی لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ ہے۔

حماد حسن نے “بند کمروں میں فیصلے” کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی خط و کتابت، صوبائی کابینہ اجلاس میں مالی منظوری، اور مختلف ملاقاتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ فیصلے چھپ کر نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ نقل مکانی سے قبل مقامی عمائدین کے جرگے کے 56 اجلاس ہوئے اور 28 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر خیبر نے صوبائی حکومت کو خط لکھ کر تقریباً ایک لاکھ افراد کی تیراہ سے آمد کی اطلاع دی۔ اس کے بعد 14 نومبر کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں چار ارب روپے کے اقدامات کی منظوری دی گئی۔ لیکن انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی تیراہ کے لوگوں کی مدد کے بجائے عشق عمران کا منجن بیچ رہے ہیں،حسن ایوب

انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ افراد کے لیے صرف ایک رجسٹریشن آفس قائم کیا گیا، جس کی وجہ سے رش اور طویل قطاریں لگیں، خیبر پختونخوا حکومت نے دو تین اضافی رجسٹریشن دفاتر قائم کیے، لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔

حماد حسن نے  خیبر پختونخواہ حکومت کی دوسری بڑی غلطی بھی اجاگر کی کہ نقل مکانی شروع کرنے سے پہلے محکمہ موسمیات سے رابطہ نہیں کیا گیا، جس سے بروقت اقدامات ممکن نہ ہو سکے۔

تیراہ کے دو علاقے ہیں، لر تیراہ اور بر تیراہ، اور میدان ان کا مرکز ہے۔ دونوں علاقوں کے لوگوں کی ایک ساتھ نقل مکانی کے باعث مسائل مزید بڑھ گئے۔

حماد حسن نے خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی عوام کی بدقسمتی ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے جلسے جلوسوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو خیبر پختونخوا کی ترقی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر خیبر پختونخوا کی ترقی ان کا مقصد ہوتی تو ان کےوزرا اعلی پرویز خٹک، محمود خان کے بھائ پر کرپشن کے الزامات لگتے رہےلیکن انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ عمران خان نے علی امین گنڈاپور کے خلاف بھی ایکشن تب لیا گیا جب انہوں نے علیمہ خان کے خلاف بیان دینا شروع کردیئے تھے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ سہیل خان آفریدی اس وقت گڈ بک میں شامل ہے لیکن جس دن وہ عمران خان کیلئے خطرہ بنا تو اس وقت اس بھی رخصت کر دیا جائے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *