پاکستانیوں کے لیے رمضان المبارک سے قبل ایک بڑی خوشخبری سامنے آ گئی ہے، جہاں وفاقی حکومت تاریخ کا سب سے بڑا رمضان ریلیف پیکج متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس بار رمضان کے دوران 110 ارب روپے سے زائد کا ریلیف پیکج دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے ایک کروڑ شہریوں کو سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے رمضان المبارک میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی واضح ہدایات جاری کر دی ہیں، اس ریلیف پیکج میں ماہانہ 50 ہزار روپے سے کم آمدن رکھنے والے افراد کو شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ کم آمدن طبقے کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جا سکے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے رمضان ریلیف پیکج کے لیے 30 ارب روپے سے زائد مختص کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق پنجاب حکومت نے رمضان ریلیف پیکج کے لیے 45 ارب روپے مختص کر دیے ہیں، جبکہ سندھ حکومت بھی 25 ارب روپے کے ریلیف پیکج پر غور کر رہی ہے۔
اسی طرح ذرائع نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت بھی 10 سے 13 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج پر کام کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس وفاقی حکومت نے رمضان ریلیف پیکج کے لیے 20 ارب روپے جاری کیے تھے۔
وزارت خزانہ، وزارت صنعت اور وزارت تخفیف غربت کی جانب سے رمضان ریلیف پیکج پر ہنگامی بنیادوں پر ورکنگ جاری ہے۔ ریلیف پیکج کے تحت درآمد شدہ چینی بھی رمضان بازاروں میں رعایتی نرخوں پر دستیاب ہوگی۔
ذرائع کے مطابق رمضان ریلیف پیکج کے لیے ایس ایم ایس سروس 8070 پر رجسٹریشن کی جائے گی، جبکہ مستحقین کی نشاندہی کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا سے بھی مدد لی جائے گی۔ وزیراعظم نے بی آئی ایس پی سے ہٹ کر بھی مستحق افراد کو ریلیف پیکج میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔