ہر پاکستانی پر 3 لاکھ 33 ہزار روپے قرض کا دعویٰ بھارتی پروپیگنڈا نکلا، اصل حقیقت سامنے آگئی

ہر پاکستانی پر 3 لاکھ 33 ہزار روپے قرض کا دعویٰ بھارتی پروپیگنڈا نکلا، اصل حقیقت سامنے آگئی

آزاد فیکٹ چیک نے بھارت میں قائم سوشل میڈیا ’ایکس ہینڈل‘ کی جانب سے پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہر پاکستانی پر قرض کا بوجھ 3 لاکھ 33 ہزار روپے ہو چکا ہے۔

آزاد فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ حقائق کے منافی اور دستیاب سرکاری اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا، آزاد فیکٹ چیک کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ تقریباً 130 ارب ڈالر ہے جبکہ ملک کی آبادی 24 کروڑ 20 لاکھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گیس صارفین کے لیے بُری خبر، سوئی سدرن کا بڑا اعلان

ان اعداد و شمار کے مطابق فی کس قرضہ تقریباً 538 ڈالر بنتا ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 1 لاکھ 51 ہزار روپے کے برابر ہے، جو کہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے اعداد سے کہیں کم ہے۔

یہ غلط دعویٰ بھارتی ’ایکس‘ صارف آدتیہ راج کول کی جانب سے کیا گیا، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ہر پاکستانی پر قرض کا بوجھ 13 فیصد بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار روپے ہو گیا ہے۔ پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بجٹ خسارہ قانونی حد سے 3 کھرب روپے تجاوز کرنے کے باعث عوامی قرضہ ایک ‘چیلنج’ بنا ہوا ہے۔

آزاد فیکٹ چیک نے واضح کیا کہ پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایسا کوئی اعتراف موجود نہیں جو فی کس قرض کے اس دعوے کی تصدیق کرتا ہو اور اس بیانیے کو منظم پروپیگنڈا قرار دیا۔

مزید پڑھیں:امریکا دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک، بھارت ساتویں، پاکستان 33 ویں نمبر پر

ادارے نے تقابلی اعداد و شمار بھی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کا مجموعی قرضہ تقریباً 2.09 کھرب ڈالر ہے جبکہ اس کی آبادی تقریباً 1.42 ارب ہے، جس کے مطابق ہر بھارتی پر قرض تقریباً 1,470 ڈالر بنتا ہے، جو پاکستان کے فی کس قرض سے تقریباً 2.8 گنا زیادہ ہے۔

آزاد فیکٹ چیک نے عوام پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معاشی معلومات کے معاملے میں مستند اور تصدیق شدہ ذرائع پر انحصار کریں اور گمراہ کن خبروں سے ہوشیار رہیں۔

Related Articles